خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 931 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 931

خطبات ناصر جلد اول ۹۳۱ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۶۷ء پڑے گی وہ اس فنڈ کی آمد سے حاصل کیا جائے گا۔پس جتنا جلد ہمارے پاس سرمایہ جمع ہو گا اتنا ہی زیادہ ہم اس سے نفع حاصل کر سکتے ہیں۔پچھلے چند مہینوں میں جو تھوڑی سی رقوم کمپنیوں کے حصے لینے پر خرچ کی گئی تھیں اس سے چودہ پندرہ ہزار روپیہ کا نفع خدا تعالیٰ کے فضل سے ہو گیا ہے اور امید ہے کہ اگلے دو چار مہینہ میں اور نفع ہوگا۔فنڈ کے سرمایہ کو آگے کام پر لگانے کے لئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے اور جو محتاط خرچ ہوں ان کا نفع زیادہ نہیں ہوتا۔یہ خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا کہ پندرہ میں فیصدی نفع کی امید پر سرمایہ کو خطرہ میں ڈال دیا جائے اس لئے نہایت محتاط طریق سے سرمایہ لگا یا جاتا ہے لیکن اس طرح جو نفع ہوتا ہے وہ تین چار فیصدی سے زیادہ نہیں ہوتا۔پس اس طرح کچھ آمد ہو گئی ہے لیکن کام تو بہت سے کرنے والے ہیں اور ان کاموں پر خرچ کرنا ہے نفع سے اور نفع ہونا ہے سرمایہ سے اور سرمایہ کا ۱/۳ حصہ آپ نے پہلے سال میں دیا ہے۔آئندہ سال ختم ہونے سے کہیں پہلے اگر سرمایہ زیادہ آجائے تو انشاء اللہ اور اس کے فضل سے زیادہ آمد ہوگی اور جن کاموں کے لئے اس فاؤنڈیشن کو جاری کیا گیا ہے ان پر جلد سے جلد توجہ کی جاسکے گی اور ان کے اچھے نتائج نکلنے شروع ہو جا ئیں گے۔آخر میں دوستوں کو پھر دعاؤں کی تحریک کرتا ہوں میں تو اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ وہ ساری جماعت کو دشمن اور حاسد کے ہر شر سے محفوظ رکھے اور اپنے فرشتوں کی پناہ میں رکھے کیونکہ انسان بڑا ہی کمزور ہے پل بھر کا پتہ نہیں ہوتا جب تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت نہ ہو جب تک وہ اپنی امان میں کسی کو نہ لے لے اس وقت تک دشمن کا ہر وار کامیاب ہوسکتا ہے لیکن اگر اور جب اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے تو معجزانہ طور پر اس وجود کی یا اس جماعت کی حفاظت کی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بشارتیں دی ہیں کہ اس جماعت کو غلبہ اسلام کے لئے قائم کیا گیا ہے جس کے یہ معنی بھی ہیں کہ جب تک یہ جماعت اپنے مقصد کو حاصل نہ کر لے اور تمام دنیا میں اسلام کو غالب نہ کر لے اور تمام ادیانِ باطلہ کو اسلام کے دلائل