خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 890
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۹۰ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء دنیا کے ایک محسن عظیم ہیں ان کو پہچا نو اور اس تعلیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرو تو یہ سب کچھ تقریر میں ساری تفصیل سے تو آنا نہ تھا۔اگر میں وہاں تقریر کر دیتا انہوں نے اسے ترجمہ کرنا تھا کیونکہ وہ انگریزی زبان بولنے والے نہیں تھے۔(انگلستان کے اخباروں میں ابھی نہیں آیا ) تو اب ساری زبانوں میں انشاء اللہ ترجمہ ہو کے اللہ کا یہ پیغام گھر گھر پہنچ جائے گا اسی کی توفیق سے۔بڑا احسان کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ،سارے دلوں کو اس طرف پھیر دیا۔پانچواں سلسلہ احسانوں کا جماعت کی تربیت ہے میرے جانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا۔وہاں دو قسم کے احمدی ہیں ایک مقامی اور ایک اردو بولنے والے یہاں سے گئے ہوئے اور بعض ہندوستان سے آئے ہوئے ہیں۔لیکن اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔ان میں سے ننانوے فی صدی وہ ہیں جن کو کچھ علم نہیں تھا اس قیامت کا جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت جماعت پرگزری کیونکہ وہ یہاں نہیں تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے جماعت کو سنبھالا اور ایک ہاتھ پر متحد کر دیا وہ ہاتھ بے زور اور کم طاقت کا تھا لیکن خدا نے کہا کہ جتنا بوجھ مرضی ہے پڑے، گھبرانا نہیں کیونکہ اس ہاتھ کے نیچے میرا ہاتھ ہے اور جو کہا اس وقت وہ کر دکھایا۔میں چاہتا تھا کہ یہ لوگ مجھ سے ملیں باتیں سنیں اور بہت سی غلط فہمیاں یا غلط خیال جو عدم علم کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں وہ دور ہو جائیں۔اگر خدا چاہے تو پھر یہ کہ میں ان کو جانوں کہ وہ کس قسم کے احمدی ہیں ،خصوصاً جوان ملکوں کے باشندے ہیں۔تو جہاں تک ان لوگوں کو دیکھنے کا مجھے موقع ملا، میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا اتنا عظیم احسان ہے کہ صرف ایک احسان کا بھی ہم شکر ادا نہیں کر سکتے حالانکہ وہ بے شمار احسانوں میں سے ایک احسان ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی مخلص جماعتیں پیدا ہو چکی ہیں۔جن کے ذہن ہی مسلمان اور احمدی نہیں بلکہ ان کے دل اور ان کی روح اور ان کے جسم کا ذرہ ذرہ احمدیت میں یوں رچ گیا ہے۔انگریزی میں کہتے ہیں سیچوریشن پوائنٹ اس پوائنٹ تک احمدیت ان کے اندر پہنچ چکی ہے گو روحانی دنیا میں سچو ریشن پوائنٹ کبھی نہیں آتا مطلب یہ ہے کہ اس وقت وہ اعلیٰ اور ارفع مقام پر ہیں جیسے اعلی ترقیات کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں اس کے لئے کوئی انتہا نہیں اتنی