خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 855 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 855

خطبات ناصر جلد اول ۸۵۵ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء بل اس شخص کے نام آ گیا جس کی ایک ہزار روپیہ آمد تھی۔تو بے دریغ اور بے دھڑک اسلام کی اشاعت پر اپنے اموال خرچ کرنے والے ہیں یہ دوست۔جب امام کمال یوسف صاحب کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ یہ تمہارا ذاتی خرچ تو ہے نہیں (انہوں نے سوچا کہ ایک مہینہ میں دو مہینے کی آمد کے برابر بل وہ کیسے ادا کرے گا )۔تم کو اشاعت قرآن سے جو آمد آ رہی ہے وہ ہمارے پاس جمع ہو رہی ہے میں اس میں سے یہ بل ادا کر دوں گا سو دوسو کا بل ہو تو وہ خود ہی ادا کر دیتا ہے ایک ماہ میں دو ہزار روپے کے بل کا مطلب یہ ہے کہ دو ہزار روپیہ کا بل جتنا وقت خرچ کرنے پر آتا ہے اتنا وقت بھی تو اس نے خرچ کیا ہے نا ؟؟؟ میرا اندازہ ہے کہ کئی گھنٹے روزانہ اوسط بنے گی پس بڑی ہی قربانی ہے اس شخص کی جو پورے چندے بھی دیتا ہے اور دین کے کاموں پر بہت سا وقت بھی خرچ کرتا ہے اور اس کے علاوہ گھنٹوں ٹیلیفون پر تبلیغ اسلام کرتا ہے اور ٹیلی فون کا بل بھی اپنی گرہ سے دیتا ہے۔یہ دوست بڑی غیرت رکھنے والے ہیں اسلام کے لئے بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں اسلام کے لئے بڑی محبت رکھنے والے ہیں اللہ سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور آپ کے غلاموں سے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پانے والے بھی ہیں کیونکہ جو خدا کی راہ میں دیتا ہے وہ خدا سے اس سے زیادہ حاصل بھی کرتا ہے ورنہ بشاشت قائم نہیں رہ سکتی جب تک اللہ تعالیٰ کے پیار کا سلوک اس کا ایک بندہ اس دنیا میں نہیں دیکھتا بشاشت ایمانی نہ پیدا ہوتی ہے نہ قائم رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا وہ ان سے اس دنیا میں ہی اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ادبار رکھنا نہیں چاہتا وہ غیر محدود جلووں کا مالک ہے بے شمار رنگ ہیں ہمارے تصور میں بھی وہ رنگ نہیں آتے جس رنگ میں اللہ تعالیٰ اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔یہ لوگ اپنے رب سے اس محبت کو پاتے ہیں اور جو ایثار اور قربانی اور فدائیت کے نمونے یہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر ان پر انعام کرتا ہے اور رحمتیں نازل کرتا ہے سو اس طرح یہ ایک چکر ہے جو چلا ہوا ہے یہ چکر جیسے یہاں چلا ہوا ہے وہاں بھی چل پڑا ہے اور درجنوں ایسے آدمی ہیں مرد بھی اور عور تیں بھی جنہوں نے خدا کی راہ میں فدائیت اور ایثار کا نمونہ دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے انتہائی محبت اور پیار کا