خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 69
خطبات ناصر جلد اول ۶۹ خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء افطاری کے متعلق آپ کا یہ ارشاد ہے کہ بالکل پہلے وقت میں کر لینی چاہیے۔چنانچہ بخاری شریف میں روایت ہے۔عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَلُوا الْفِطْرَ - کہ میری اُمت کے لوگ بھلائی کو اس وقت تک حاصل کرتے رہیں گے جب تک کہ وہ افطاری پہلے وقت میں کیا کریں گے۔اس کے ایک لطیف معنی شارحین حدیث نے یہ کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا مطلب یہ تھا کہ جب تک لوگ میری سنت پر عمل کرتے رہیں گے ان کا بھلا ہوگا۔میں پہلے وقت میں افطاری کرتا ہوں اور جب تک میری امت میری سنت کی تابع رہے گی اور میری سنت پر عمل کرے گی اس وقت اللہ تعالیٰ کی بڑی برکتیں بھی اسے حاصل ہوتی رہیں گی۔پس اول وقت میں افطاری اور آخری وقت میں سحری کھانا بڑی برکت کا موجب ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ہمیں اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے تا اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی برکات سے نوازتا چلا جائے۔پھر روزے کی عبادت کے متعلق جب ہم مزید غور سے کام لیتے ہیں تو ہمیں ایک اور لطیف بات معلوم ہوتی ہے۔اس عبادت میں ہمیں کھانے پینے سے روکا گیا ہے اور کھانے پینے پر ایک فرد کی بقا کا انحصار ہے کیونکہ کوئی شخص کھائے پئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔پھر ہمیں جنسی تعلقات سے بھی روکا گیا ہے اور جنسی تعلقات پر نسل کی بقا کا انحصار ہے۔اس کے بغیر نسل انسانی جاری نہیں رہ سکتی۔اگر دنیا کے سارے لوگ وہ کیفیت اپنے پر وارد کر لیں جو روزہ کے وقت ایک روزہ دار کی ہوتی ہے تو یقینا یہ دنیا اسی نسل میں ختم ہو جائے۔تو بنیادی چیز جس کا اقرار اللہ تعالیٰ نے روزہ کے ذریعہ ہم سے لیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی اور اپنی نسل کی زندگی۔اے خدا! تیرے حوالے کرتے ہیں۔کیونکہ ہمیں ان چیزوں سے بھی روکا گیا ہے جن پر ہماری زندگی کی بقا کا انحصار ہے اور اس چیز سے بھی روکا گیا ہے جس پر ہماری نسل کی بقا کا انحصار ہے گویا ہم سے خدا تعالیٰ یہ اقرار کرواتا ہے کہ ہمارا سب کچھ تیرا ہو گیا۔