خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 833 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 833

خطبات ناصر جلد اول ۸۳۳ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء جتنی زندگی تھی گو اس مسئلے میں ہمارا اور تمہارا اختلاف ہے لیکن میں اس وقت اس اختلاف کو چھوڑتا ہوں تمہارے خیال میں جتنے سال مسیح علیہ السلام اس دنیا میں زندہ رہے اس ساری عمر میں انہوں نے جتنے عیسائی بنائے تھے ان سے زیادہ اس ملک میں ہم نے مسلمان بنائے ہیں اس پر ایسا رُعب طاری ہوا کہ دوسرے نمائندے تو سوال کرتے رہے لیکن وہ خاموش رہا تیس چالیس منٹ کے بعد میں نے اس کی طرف توجہ کی اور کہا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ تم نے مجھ میں دلچسپی لینی چھوڑ دی ہے لیکن میری تم میں دلچسپی ابھی تک قائم ہے تم سوال کرو میں اس کا جواب دوں گا خیر اس کے بعد اس نے بعض سوال کئے اور میں نے ان کا جواب دیا۔زیورک میں تو میں پریس کا نفرنس کے بعد وہیں ٹھہرا رہا لیکن ہیگ میں میں پریس کانفرنس کے معا بعد اس جگہ کو چھوڑ کر اپنے کمرہ میں چلا گیا تھا اور وہ نوجوان قریباً ایک گھنٹہ تک دوستوں سے گفتگو کرتا رہا اس نے قیمتاً ہمارا لٹریچر بھی خریدا اور کہنے لگا میں اسے ضرور پڑھوں گا۔غرض اس پر اتنا اثر تھا وہاں کے سارے اخباروں نے صرف یہ خبر ہی شائع نہیں کی تھی کہ ہم اس ملک میں آئے ہیں بلکہ ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ وہ کہتے ہیں کہ اسلام لا ؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے اور دراصل یہی بات ان دوغرضوں میں سے ایک تھی جن کے لئے میں وہاں گیا تھا مجھ سے وہ باتیں کرتے ان کو بھی شائع کرتے اور ساتھ ہی ہماری تصویریں بھی شائع کرتے لیکن اگر وہ صرف میری تصویر شائع کرتے تو اس میں میری کوئی عزت افزائی نہیں تھی جس کو خدا تعالیٰ نے عزت دی ہو وہ دنیا کی عزتوں کی کیا پرواہ کرتا ہے میرے وہاں جانے کی جو اصل غرض تھی وہ پوری ہونی چاہیے تھی میں نے ان کو جو انتباہ دینا تھاوہ ہر ایک کے پاس پہنچنا چاہیے تھا اور مجھے خوشی اس بات سے ہوئی تھی کہ انہوں نے صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ میرا پیغام یہ ہے کہ دور استے تمہارے لئے کھلے ہیں یا تو تم اسلام لاؤ یا تباہ ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ۔میں ویسے وہاں یہ فقرہ بولتا تھا کہ اپنے رب کی طرف رجوع کرو Come back to your Creator اور اس کا مفہوم وہ سارے سمجھتے تھے چنانچہ ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا مطلب تو اسلام سے ہے نا۔میں نے کہا ہاں اللہ وہی تو ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے وہ لوگ ذاتِ باری اور صفات باری کے متعلق تو کچھ جانتے نہیں تھے لیکن وہ مفہوم کے لحاظ میرے فقرہ کا ترجمہ کر لیتے