خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 68 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 68

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۸ خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء ہر مومن بالغ اور عاقل کے لئے ضروری ہے کہ وہ روزہ رکھے اگر وہ بغیر جائز عذر شرعی روزہ نہیں رکھے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گنہگا رٹھہرے گا۔یہاں میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحری کے کھانے کو آخری وقت میں زیادہ پسند فرماتے تھے اور افطاری کو پہلے وقت میں۔زید بن ثابت سے روایت ہے کہ تَسَخَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلوةِ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَ الْآذَانِ وَالسَّحُورِ قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ أَيَةً - رمضان کے مہینے میں ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کا کھانا کھایا۔اس کے بعد آپ نماز فجر کے لئے باہر تشریف لے گئے۔ان سے پوچھا گیا کہ سحری کے کھانے اور نماز صبح کے درمیان کتنا فاصلہ تھا ؟؟ انہوں نے کہا بس اتنا ہی جس میں قرآن کریم کی پچاس آیات پڑھی جا سکتی ہوں ( یہ بھی ایک بڑا پیارا طریق بیان ہے کہ وقت کو منٹوں کی بجائے قرآن کریم کی آیات کی تلاوت کے ساتھ بیان کیا جائے۔یہ بات بتاتی ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم کا کتنا عشق تھا ؟ ) اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت بلال محتاط قسم کے آدمی ہیں ابھی پونہیں پھوٹتی کہ اذان دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اس لئے جب بلال اذان دے رہا ہو تو کھانا پینا نہ چھوڑا کرو اور انتظار کیا کرو کہ حضرت ابن ام مکتوم ( جو ایک نابینا صحابی تھے ) اذان دیں وہ اسی وقت اذان دیتے تھے جب انہیں چاروں طرف سے آوازیں آتیں کہ فجر ہو گئی ہے۔اذان دو۔ان کی اذان کی آواز جب کان میں پڑے تو پھر سحری چھوڑ دو۔کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ ان دونوں اذانوں میں کتنا فرق تھا اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اتنا ہی فرق تھا کہ بلال اذ ان بند کرتے اور ابن ام مکتوم اذان شروع کرتے۔اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ سحری کا کھانا بالکل آخری وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا۔