خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 800
خطبات ناصر جلد اول ۸۰۰ خطبہ جمعہ ۲۸ / جولائی ۱۹۶۷ء نہ ہوں ، وہ درخت بچ جاتے ہیں جنہیں موزوں وقت پر اعمال صالحہ کا پانی دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے براہین عیسائیت کے مقابلہ میں پیش کئے ہیں کہ ہمارے بچہ کے مقابلہ میں عیسائی پادری نہیں ٹھہر سکتا لیکن ظاہری لحاظ سے اس کا کچھ فائدہ نہیں جب تک وہ عیسائی یہ نہ سمجھ لے کہ روحانی انعام جو اسلام میں ملتا ہے وہ اس کی اپنی تعلیم میں نہیں۔اسلام کے عقائد کا علم ہونے کے بعد اگر عمل کے وقت پیچھے ہٹ جائیں عمل صالحہ کی بجائے فساد والا عمل کریں اور اس کی بو سے سارا علاقہ بد بودار ہو جائے تو ان عقائد کے علم کا کوئی فائدہ نہیں۔اسلام کے مطابق زندگی گزار ہیں۔اگلے ۳۰،۲۰ سال دنیا کے لئے انتہائی نازک اور انتہائی خطرناک ہیں جس کا آپ کو تصور بھی نہیں آپ بھی اس عذاب سے بچ نہیں سکتے جب تک اپنے اموال اپنی جان اور عزت کی قربانی نہ دیں ورنہ اس کے قہر کا تازیانہ آپ پر بھی پڑے گا۔خدا تعالیٰ کسی کا ذمہ دار نہیں ہے اپنے اعمال کی اصلاح کریں آپ نے صداقت قبول کر لی ہے اب اعمال صالحہ بجالانا آپ کے لئے مشکل نہیں یہ چیزیں غیروں کے پاس نہیں آپ روحانی کامیابی کے قریب ہیں جو زبان سے دعوی کرے عمل سے ثابت نہ کرے جس کے منہ سے براہین کے پھول جھڑ رہے ہوں مگر عمل سے اس کی خوشبو نہ آرہی ہو ایسا شخص خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتا۔ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے اس کے بغیر آپ خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔عمل صالح کی توفیق بھی خدا ہی دیتا ہے اس سے اس کی توفیق مانگنی چاہیے اللہ تعالیٰ آپ کو ایک احمدی کی سی زندگی گزارنے کی توفیق دے جہاں یہ زمانہ بڑا نازک ہے وہاں خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے بھی دروازے کھلے ہیں بڑا بد بخت ہے وہ شخص جس کو دونوں دروازوں کا علم ہومگر وہ اچھے دروازہ کومنتخب نہ کرے۔آپ دنیا کے استاد بنائے گئے ہیں دعا کریں کہ اپنی غفلت کے نتیجہ میں دنیا کے شاگرد نہ بن جائیں۔روزنامه الفضل ربوه ۶ را گست ۱۹۶۷ ء صفحه ۳ تا ۵)