خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 799
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۹۹ خطبہ جمعہ ۲۸ / جولائی ۱۹۶۷ء لگیں اس وقت وہی پادری کہتے ہیں کہ اب افریقہ میں اگر ایک شخص عیسائی ہوتا ہے تو دس مسلمان ہوتے ہیں۔یہ عجیب اور انہونی بات کیسے معرض وجود میں آئی؟ صرف ایک ہی چیز نظر آتی ہے کہ جب یہ لوگ احمدی ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس تاریک علاقہ کے لوگوں کو ایسے سامان دیئے کہ ان کی روحانی ترقی بہت جلد ہونے لگی۔ایسی ترقی جو وہ ۳۰-۴۰ سال بعد حاصل کر سکتے انہوں نے بہت جلد حاصل کر لی۔انہیں سچی خوا ہیں آنی شروع ہوئیں اپنے اور غیروں کے متعلق جو بعد میں سچی بھی ثابت ہوئیں دنیوی طور پر بھی انہیں جلد جلد ترقی ملنے لگی ان چیزوں کی وجہ سے اور ان روحانی ترقیوں کی وجہ سے ان کے دلوں میں عجیب عشق پیدا ہو گیا جب یہ لوگ دوسروں کو تبلیغ کرتے ہیں تو وہ اسلام کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔یہ روحانی دولت ایسی دولت ہے جو دنیا سے نہیں ملتی۔مالدار انسان اپنی ساری دولت دے کر بھی اللہ تعالیٰ کی دولت حاصل نہیں کر سکتا۔اس دولت کو لینے کے لئے سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے اور جب خدا تعالیٰ مل جاتا ہے تو ساری دولتیں مل جاتی ہیں۔آپ کو میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اگلے زمانوں کی تعلیم بے شک کتاب مکنون ہے لیکن ہر زمانہ کی تعلیم اپنے زمانہ میں کتاب مبین کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس زمانہ میں اسلامی تعلیم کو اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ ایک زندہ دل اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔مگر محض قرآنی تعلیم کسی کو فائدہ نہیں دے سکتی جب تک اعمال صالحہ نہ ہوں یعنی موقع کے مطابق ہوں۔بعض احکام تو مستقل ہیں مثلاً نماز روزہ وغیرہ لیکن بعض احکام کی شکلیں ہر زمانہ میں بدلتی رہتی ہیں مثلاً غریب کا خیال رکھنا۔پہلی صدی ، دوسری صدی، تیسری صدی اور چودھویں صدی میں بھی یہ تعلیم قائم رہی اور کس طرح غرباء کا خیال رکھنا چاہیے ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کا ایک بندہ کھڑا ہو کر راہنمائی کرتا رہا لیکن جہاں تک اسلام کے اعتقاد کا ذکر ہے حضرت مسیح موعود کی بعثت سے قبل سب درخت خشک ہو چکے تھے کیونکہ ظاہری اعتقاد کچھ نہیں جب تک ایمان نہ ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمان کا درخت اس وقت تک سرسبز نہیں ہوتا جب تک اعمالِ صالحہ کے پانی سے سیراب نہ کیا جائے نیک اعتقاد کا درخت مرجاتا ہے اگر اعمالِ صالحہ