خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 796 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 796

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۹۶ خطبہ جمعہ ۲۸ / جولائی ۱۹۶۷ء اس کا بھی یہ مطلب ہے کہ اسلام میں احمدیت ایک ایسا قلعہ ہے جس میں داخل ہو کر انسان سب شیطانی حملوں سے بچ جاتا ہے۔ایک ایسا قلعہ جس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان اس کے غضب سے محفوظ رہنے کے بعد خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر لیتا ہے۔جب ہم ان اندھیروں میں بسنے والی اقوام کے ان لوگوں کو جو ایسے قلعوں میں داخل ہوئے یعنی ان اقوام کے احمدی افراد کے شاندار نمونہ ، اخلاص، اسلام کے ساتھ تعلق ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے دلوں میں عشق اللہ ، ایک اللہ کی توحید پر ایمان اور اس کی صفات سے ان کے دلی لگاؤ اور ان کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی صفات کے پر تو کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ یہ الہام سچ اور برحق ہے کہ اس زمانہ کا حصن حصین میں ہی ہوں“۔بڑی قربانیاں دینے والے لوگ اپنے اموال ، اپنے اوقات، اپنے جذبات، اپنی عزتوں کو قربان کرنے والے لوگ ان میں پیدا ہو چکے ہیں۔کوپن ہیگن میں وہاں کی جماعت نے یہ انتظام کیا تھا کہ احمدی بہنیں اور بھائی خود ہی کھانا پکاتے ، برتن دھوتے اور دیگر امور رضا کارانہ طور پر سرانجام دیتے تھے۔وہاں پر میں نے دیکھا کہ صبح سے رات کے بارہ بجے، ایک بجے تک ہمارے احمدی نو مسلم بھائی اور بہنیں کام کرتی تھیں اور ہنستے ہوئے چہروں اور دلی بشاشت کے ساتھ رات کے بارہ بجے ، ایک بجے واپس جاتی تھیں۔ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو وصیت کا چندہ دینے کے علاوہ سینکڑوں روپیہ احمدیت اور اسلام پر خرچ کرتے ہیں۔ڈنمارک کے ایک دوست جن کی ماہانہ آمد ۳۰۰۰ کرون ہے جن میں سے وہ ۱۰۰۰ کرون ٹیکس میں دیتے ہیں اس آمد سے وصیت کا چندہ دیتے ہیں اور خطوط کے ذریعہ اگر کوئی اسلام سے متعلق سوال کرے یا اعتراض کرے تو اس کا تفصیلی جواب دیتے ہیں۔اگر کوئی فون پر اسلام کے متعلق کوئی بات پوچھے یا اعتراض کرے تو اسے بھی تفصیلی تسلی بخش جواب دیتے ہیں ایک دفعہ ایک مہینہ میں محض فون کا بل ۲۰۰۰ کرون ہو گیا۔انہوں نے دعا کی اور خدا تعالیٰ نے بل ادا کرنے کا سامان پیدا فرما دیا تو اس قسم کا جذبہ محبت و عشق ان کے دلوں میں موجزن ہے۔جہاں یہ نقشہ، یہ حالت، یہ عشق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے لئے یہاں کے