خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 730
خطبات ناصر جلد اول ۷۳۰ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء قبول کیا کرتا ہوں اور جس کے متعلق میں دوسری جگہ قرآن کریم میں کہہ چکا ہوں کہ تمہاری عبادتوں کے ساتھ تمہاری دعاؤں کا ہونا ضروری ہے اور جو لوگ تکبر سے اپنی عبادت کو عبودیت کے اس مقام پر نہیں لائیں گے میں انہیں جہنم کی سزا دوں گا اور وہ ناکامی اور میرے قہر اور غضب کی جہنم میں داخل ہوں گے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: - وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ لا دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة : ۱۸۷) اے رسول ! اگر میرے بندے میرے متعلق تجھ سے سوال کریں کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا کیا ثبوت ہے؟ اور اس کی صفات کا علم ہم کیسے حاصل کریں تو تو ان کو جواب دے کہ خدا تو تمہارے قریب ہی ہے تم اس کے ڈر کو کھٹکھٹاؤ وہ تمہارے لئے کھولا جائے گا اور تم اس سے دعائیں کرو (اس کی بتائی ہوئی شرائط کے مطابق ) تمہاری دعائیں قبول ہوں گی اور قبولیت دعا کے نتیجہ میں تم ذات باری اور صفات باری کا علم حاصل کرو گے اور اس معرفت اور عرفان کے بعد تمہارے دل اس کی محبت میں گم ہو جائیں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو چاہیے وَلْيُؤْمِنُوا ہی کہ مجھ پر ایمان لائیں میری ذات پر اور میری صفات پر، تا وہ ہدایت پائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے متعلق برکات الدعا میں فرماتے ہیں :۔اور دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق مجاذبہ ہے۔یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔سوجس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہوکر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے، پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں تب اس کی روح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور