خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 726
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء ہوتی ہیں اور وہ احکام اور وہ عقائد جو محض ایمان اور سماع کے طور پر قبول کئے گئے تھے اب بذریعہ مکاشفات صحیحہ اور الہامات یقینیہ قطعیہ مشہود اور محسوس طور پر کھولے جاتے ہیں اور مغلقات شرع اور دین کے اور اسرار سر بستہ ملت حنیفیہ کے اس پر منکشف ہو جاتے ہیں اور ملکوت الہی کا اس کو سیر کرایا جاتا ہے، تا وہ یقین اور معرفت میں مرتبہ کامل حاصل کرے اور اس کی زبان اور اس کے بیان اور تمام افعال اور اقوال اور حرکات سکنات میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور ایک فوق العادت شجاعت اور استقامت اور ہمت اس کو عطا کی جاتی ہے اور شرح صدر کا ایک اعلیٰ مقام اس کو عنایت کیا جاتا ہے اور بشریت کے حجابوں کی تنگ دلی اور خست اور بخل اور بار بار کی لغزش اور تنگ چشمی اور غلامی شہوات اور ردائت اخلاق اور ہر ایک قسم کی نفسانی تاریکی بکلی اس سے دور کر کے اس کی جگہ ربانی اخلاق کا نور بھر دیا جاتا ہے۔تب وہ بکلی مبدل ہو کر ایک نئی پیدائش کا پیرا یہ پہن لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے سنتا اور خدائے تعالیٰ سے دیکھتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ حرکت کرتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرتا ہے اور اس کا غضب خدائے تعالیٰ کا غضب اور اس کا رحم خدائے تعالیٰ کا رحم ہو جاتا ہے اور اس درجہ میں اس کی دعائیں بطور اصطفاء کے منظور ہوتی ہیں نہ بطور ابتلا کے اور وہ زمین پر مجبت اللہ اور امان اللہ ہوتا ہے اور آسمان پر اس کے وجود سے خوشی کی جاتی ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عطیہ جو اس کو عطا ہوتا ہے مکالماتِ الہیہ اور مخاطبات حضرت یزدانی ہیں جو بغیر شک اور شبہ اور کسی غبار کے چاند کے نور کی طرح اس کے دل پر نازل ہوتے رہتے ہیں اور ایک شدیدالاثر لذت اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور طمانیت اور تسلی اور سکینت بخشتے ہیں۔یہ وہ ثمرات ہیں جن کا وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور یہ وہ ثمرات ہیں جو امت محمدیہ کو کثرت کے ساتھ عطا ہوئے کہ دیکھنے والی آنکھ انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔سترھویں غرض رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا میں بیان ہوئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اعمال کوئی شے نہیں جب تک مقبول نہ ہوں اس لئے روحانی رفعتوں کا حصول صرف دعا کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے اور