خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 725
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۲۵ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء اعتقاد بھی بدلنا پڑتا ہے۔وُعِدَ الْمُتَّقُونَ میں اسی طرف اشارہ ہے اس واسطے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قرآنی شریعت سے اور خرابی پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ قرآن کریم کے اندر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوسکتی لیکن اس عقیدہ کے نتیجہ میں عمل کرنا ہے انسان نے۔تو فرمایا کہ وہ اعمالِ صالحہ کی اللہ تعالیٰ سے توفیق پائے گا۔اور ایسی توفیق پائے گا۔کہ غیر ایسین پھر اس کو یہ خطرہ نہیں ہوگا کہ کبھی شیطان بہکا کر اسے دوسری طرف لے جائے۔پھر اس کے بعد روحانی علوم اور اسرار اس پر کھلیں گے اور دودھ کی شکل اختیار کر لیں گے اور پھر ان روحانی اسرار کے انکشاف سے اس کے دل میں بے انتہا محبت اپنے رب کے لئے پیدا ہو گی اور یہ محبت الى انهرُ مِنْ خَيْرٍ لذَةِ لِلشَّرِبین کی شکل اختیار کر جائے گی۔پھر اس کے نتیجہ میں وہ ہر قسم کی روحانی بیماری سے محفوظ ہو جائے گا یعنی اَنْهُرُ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى اسے میسر آجائیں گی۔پس یہ پھل ہیں جو اسلام اسے دیتا ہے، یہ وہ پھل ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی وَارزُ في أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَّبِّهِمُ الله تعالى فرماتا ہے کہ یہ پھل صرف تمہارے اعمال کے نتیجہ میں نہیں مل سکتا تھا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں مغفرت حاصل نہ ہوتی پس اس مَغْفِرَةٌ کا وعدہ بھی تمہیں اسلام میں ہی دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کی طرف اشارہ تو نہیں کیا لیکن میں نے غور کیا اور اگر آپ بھی غور کریں تو اسی نتیجہ تک پہنچیں گے۔اسی آیت کا مفہوم اس اقتباس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے جو میں آپ کو ابھی پڑھ کر سناؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں:۔”اب ہم کسی قدر اس بات کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام کے ثمرات کیا ہیں سو واضح ہو کہ جب کوئی اپنے مولیٰ کا سچا طالب کامل طور پر اسلام پر قائم ہو جائے اور نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے بلکہ طبعی طور پر خدا تعالیٰ کی راہوں میں ہر ایک قوت اس کے کام میں لگ جائے تو آخری نتیجہ اس کی اس حالت کا یہ ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہدایت کی اعلیٰ تجلیات تمام مُحجب سے مبرا ہو کر اس کی طرف رخ کرتی ہیں اور طرح طرح کی برکات اس پر نازل