خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 634 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 634

خطبات ناصر جلد اول ۶۳۴ خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۶۷ء کے الفاظ ( میرے نزدیک ) اپنے اس عقیدے کی وجہ سے زائد کر دئے۔ورنہ لغوی لحاظ سے اس کے یہی معنی ہیں الْهِدَايَةُ إِلَى الْجَنَّةِ یعنی جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے وہ غرض اسے حاصل ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ یہ جنت صرف اُخروی زندگی میں ہی نہیں بلکہ اس دنیوی زندگی میں بھی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا تھا کہ بیت اللہ کو ہم اس لئے کھڑا کر رہے ہیں اور اس کی حفاظت کے ہم اس لئے سامان پیدا کر رہے ہیں کہ یہاں ایک ایسی امت جنم لے گی جو ثواب اور جزا ان کو ملے گی اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جو جنت ان کے نصیب میں ہو گی وہ پہلی قوموں کے نصیب میں نہیں ہوئی ہوگی یعنی بہترین نتیجہ جو انسانی روحانی عمل کا نکل سکتا ہے وہ اس اُمت کے اعمال کا نکلے گا کیونکہ جو شریعت ان کو دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے۔پہلوں کی شریعتیں چونکہ نسبتی طور پر ناقص تھیں۔اگر ان پر پورے طور پر عمل بھی کیا جاتا تو ان کا نتیجہ عقلاً بھی وہ نہیں نکل سکتا تھا جو نتیجہ اس عمل کا نکل سکتا ہے جو ایسی شریعت کے مطابق ہو جو پورے طور پر کامل ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ هُدًى لِلْعَلَمِينَ اس گھر سے جس عالمگیر شریعت کا چشمہ پھوٹے گا اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں الْجَنَّة “ ایک کامل جنت انسان کو ملے گی اس دنیا میں بھی اور اُخروی دنیا میں بھی۔پس تیسری غرض ( جو آگے بعض ذیلی اغراض میں تقسیم ہو جاتی ہے ) بیت اللہ کے قیام کی هُدًى لِلْعَلَمِینَ ہے۔چوتھا مقصد اس گھر کی تعمیر کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایت بینت ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم خاص قسم کی آیات بینات کا وعدہ انسان کو دیتا ہے یا ان کے متعلق پیشگوئیاں بیان کرتا ہے تو یہاں میرے نزدیک آیات بینات کے عام معنی نہیں ہیں بلکہ یہاں وہ آیات بینات مراد ہیں جو اس پہلے گھر سے تعلق رکھتی ہیں جو وُضِعَ لِلنَّاسِ“ ہے، جو 66 مبرگیا ہے اور جو ھدی للعلمین “ ہے۔اس مفہوم کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا فِيهِ ایت ببنت اور اس کے معنی یہاں یہ ہیں کہ اس گھر سے تعلق رکھنے والی ایسی آیات اور بینات ہوں گی اور یہ گھر ایسے نشانات اور تائیدات سماوی کا منبع بنے گا جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گی۔جو آیات اور بینات پہلے انبیاء یا ان کی قوموں کو دیئے گئے وہ اپنے اپنے وقت پر ختم ہو گئیں اور