خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 633
خطبات ناصر جلد اول ۶۳۳ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۶۷ء آسمانی ہدایت کہ جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعہ اور پھر قرآن کریم کے نزول کے ساتھ بنی نوع انسان کو بلایا ہو کہ ادھر آؤ یہ ہدایت کے راستے ہیں ان پر چلو تب مجھ تک پہنچ سکتے ہو۔تو ہدایت کے معنی میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے تمام انبیاء ایک سے شریک ہیں لیکن هُدى للعلمین کے معنی حقیقی طور پر سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی نبی پر چسپاں نہیں ہوتے کیونکہ باقی تمام انبیاء اپنے زمانوں اور اپنی اقوام کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بیت اللہ قرآن کریم کے نزول کی جگہ ہے یہاں سے قرآن کریم نازل ہونا شروع ہو گا۔اس غرض سے ہم اس کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس کی تطہیر وغیرہ کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔هدى للعلمین کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بیت اللہ ایک ایسا مقام ہے کہ یہاں اس شریعت کی ابتدا ہوگی جو انسان پر غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھولے گی کیونکہ ہدایت کے تیسرے معنی امام راغب کے نزدیک یہ ہیں کہ ایک شخص جب ہدایت کی راہوں پر چل کر بعض اعمال صالحہ بجالاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو مزید ہدایت کی توفیق عطا کرتا ہے تو ہر عملِ صالحہ کے نتیجہ میں بہتر اور جو اللہ تعالیٰ کو نسبتا زیادہ محبوب عملِ صالحہ ہے اس کی تو فیق اس کو مل جاتی ہے یعنی تدریجی طور پر انسان کو روحانی ترقیات کے مدارج پر چڑھاتی چلی جائے گی اور اس اُمت پر اس کے ذریعہ سے غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھولے جائیں گے اور پھر یہ فرمایا کہ بیت اللہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ ھدی للعلمین (اپنے چوتھے معنی کے لحاظ سے ) ایک ایسی امت مسلمہ پیدا کی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ کے وہ انعامات ملیں گے جو ان سے پہلے کسی اُمت کو نہیں ملے اور قیامت تک بنی نوع انسان کو اس قسم کے کامل اور اکمل اور مکمل ثواب اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمتیں ملتی چلی جائیں گی کیونکہ ہدایت کے چوتھے معنی امام راغب نے یہ لکھے ہیں۔الْهِدَايَةُ فِي الْآخِرَةِ إِلَى الْجَنَّةِ چونکہ ان کے نزدیک صرف آخرت میں ہی جنت ملتی ہے اس لئے انہوں نے ” في الآخرة “