خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 609
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۶۷ء جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان کو وہ محبت اور اخلاص کے ساتھ اور پوری توجہ کے ساتھ نباہتی ہیں وہ اس یقین پر قائم کی گئی ہیں کہ اگر ہم نے کوئی بدنمونہ اس دنیا میں چھوڑا تو خدا تعالیٰ جس نے امہات المؤمنین کو بھی یہ کہا تھا کہ اگر نقض عہد کرو گی تو دگنی سزا دوں گا وہ ہمیں کب چھوڑے گا وہ ہماری غلطی کے نتیجہ میں یقیناً ہم پر ایک کے بعد دوسرا قہر نازل کرے گا اور اس قہر کی ہمیں برداشت نہیں ہے اس قہر سے ہم ترساں ولرزاں ہیں اس قہر سے بچنے کے لئے اور اس کی خوشنودی اور رضا کو حاصل کرنے کے لئے ہم اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ہم اپنے بچوں کی اور اپنی بچیوں کی اس رنگ میں تربیت کریں گی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سپاہی بنکر اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کی جو مہم جاری ہے اس مہم کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمارے بھائیوں کو بھی اور ہماری بہنوں کو بھی یہ توفیق عطا کرے کہ ہم سب ان ذمہ داریوں کو پوری توجہ اور بشاشت کے ساتھ نباہنے والے ہوں جو ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے آج ہمارے کندھوں پر ڈالی ہیں۔روزنامه الفضل ربوه ۹ را پریل ۱۹۶۷ ء صفحه ۲ تا ۵)