خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 606
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۰۶ خطبه جمعه ۱۰ / مارچ ۱۹۶۷ء نے غلطی کی کہ سب سے بڑے وظائف اُمہات المؤمنین کے لئے مقرر کر دیئے۔بعد میں تو یہ وظائف بہت بڑھ گئے تھے لیکن شروع میں بھی دس ہزار درہم ایک ایک بیوی کو ملتا تھا ان کے اپنے رشتہ دار لاکھ لاکھ روپیہ تک ایک وقت میں لا کر ان کو دے دیتے تھے۔حضرت عائشہ بیبیوں سینکڑوں غلام خرید کر ایک وقت میں آزاد کر دیا کرتی تھیں۔ایک دن جب ان کو ایک لاکھ روپیہ ملا تو بڑی خوش ہوئیں کہ مجھے دوہرا بلکہ چوگنا ثواب ملے گا دوہرے اجر کا انہیں وعدہ تھا وہ نمونہ اور اُسوہ بھی انہوں نے دکھایا پھر یہ سوچ کر بھی خوش ہوئیں کہ ایک تو میں لاکھ روپیہ تقسیم کروں گی دوسرے سارا دن میرا اس تقسیم میں گزرے گا یہ بھی ایک ثواب ہے سارا دن ذرہ بھی آرام نہیں کیا صبح سے جو بیٹھیں تقسیم کرنے کے لئے شام کر دی سارے دن کا ایک ایک منٹ اور اس مال کا ایک ایک روپیہ غرباء میں تقسیم کر دیا یہی حال تمام ازواج مطہرات کا تھا۔پس دنیا کو اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ ہم ان پر جبر نہیں کر رہے دنیا کو اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ایک حسین اُسوہ بنایا گیا ہے اس کا اثر سب سے پہلے خود آپ کے گھر میں رہنے والوں پر ہے اور ایک شدید محبت نیکی کے ان کاموں سے پیدا ہوگئی ہے آپ کی ازواج مطہرات کے دلوں میں کہ دنیا کا کوئی لالچ ، یا دنیا کا کوئی طمع یا دنیا کا کوئی آرام یا دنیا کی کوئی آسائش اس صحبت کو ٹھنڈا نہیں کر سکتی۔تفسیر روح البیان میں لکھا ہے کہ اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب دنیا کی رغبت اور دنیا سے محبت کے نتیجہ میں ازواج مطہرات کا جسمانی اور مادی تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قطع ہو سکتا ہے تو دنیا کی اس رغبت اور محبت کے نتیجہ میں امت محمدیہ کا تعلق بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قطع ہو جائے گا یعنی اگر وہ حیات دنیا اور زینت دنیا کو ترجیح دیں گے خدا اور اس کے رسول پر اور اپنے اوقات کو اور اپنی ملکیتوں کو اپنے ذاتی آسائش اور آرام پر خرچ کریں گے اور اس نظام کی مضبوطی اور استحکام کے لئے خرچ نہیں کریں گے جو اسلام نے قائم کیا ہے تو ان کا تعلق بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یقینا قطع ہو جائے گاوہ لکھتے ہیں۔فِي إِيجَابِ الْمُفَارَقَةِ عَنْ صُحْبَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِأُمَّتِهِ لِأَنَّ أَرْحَامَ قُلُوبِهِمْ مَحَلُّ النُّطْفَةِ الرُّوْحَانِيَّةِ الرَّبَّانِيَّةِ فَيَنْبَغِى أَنْ يَكُونَ أَطْيَبُ وَازْلَى لِاسْتِحْقَاقِ تِلْكَ