خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 605 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 605

خطبات ناصر جلد اوّل خطبه جمعه ۱۰ / مارچ ۱۹۶۷ء اس مقام کے اوپر قائم اور فائز جو کی گئی ہیں۔یہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جبر کر کے انہیں اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کی تربیت اس رنگ میں ہوئی ہے کہ واقعہ میں یہ امہات المؤمنین بننے کے قابل ہو گئی ہیں۔اس کے ہم یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ آؤ دیکھو! ہم اپنے نبی کو کہتے ہیں کہ ان ازواج کو جا کے یہ کہو کہ اگر چاہتی ہو حیات دنیا اور اس کی زینت کو تو سراحًا جميلا بغیر کسی ناراضگی کے ، ( نہ رسول کی ناراضگی اور نہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ) میں تمہیں تمہارے دنیوی حقوق ادا کر دیتا ہوں، عام مومنات کی عام مسلمات کی صف میں جا کے کھڑی ہو جاؤ ( یا اگر چاہو تو اسلام کو بھی چھوڑ دو کوئی جبر تو نہیں ہے ) اور اگر چاہو تو اپنی مرضی اور رضا سے اس نہایت ہی اہم ذمہ داری کو اپنے کندھوں پر لو اور ساری اُمت کے لئے اُسوہ حسنہ بننے کے لئے تیار ہو جاؤ اس وعید کے ساتھ کہ اگر تم سے کوئی غفلت اور سستی سرزد ہوئی اور کہیں تم نے غلطی کی اور اس کے نتیجہ میں دوسرے گمراہ ہوئے تو اس گناہ کی سزا دو چند ہوگی۔اور جب ان کے سامنے یہ بات پیش کی گئی تو ان میں سے ہر ایک نے یہی کہا کہ یہ راہ تنگ ہے مگر یہی راہ ہمیں پیاری ہے ہم اسے چھوڑ کے ادھر ادھر ہونا نہیں چاہتیں ہمیں خدا کی رضا اور رسول کا پیار چاہیے ہمیں دنیا کی زندگی اور اس کی زینت نہیں چاہیے۔اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اُمت مسلمہ کے لئے اُسوہ بنانا چاہتا ہے تو خدا کے فضل اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ دنیا کو یہ بھی دکھائے گا کہ ہم دنیا کے لئے اور اُمت محمدیہ کے لئے اسوہ بن جائیں گی۔پھر ان کی زندگی کو دیکھو ان میں سے ہر ایک نے اپنے اموال کو اور دنیوی سامانوں کو اور اپنے اوقات کو اور اپنے جذبات کو خدا اور اس کے رسول کے لئے خرچ کیا۔کبھی ان کے قدم میں لغزش نہیں آئی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فتوحات کے نتیجہ میں بڑے اموال آنے شروع ہو گئے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے بڑے وظائف اُمہات المؤمنین کے مقرر کئے۔پس یہاں یہ مراد نہیں کہ دنیا کے اموال لینے نہیں مراد یہ ہے کہ دنیا کے اموال دنیا کے آرام اور دنیا کی زینت پر خرچ نہیں کرنے بلکہ خدا اور اس کے رسول کی راہ میں خرچ کرنے ہیں اگر یہ مفہوم نہ لیا جائے تو پھر تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ آپ