خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 593
خطبات ناصر جلد اول ۵۹۳ خطبہ جمعہ ۳ / مارچ ۱۹۶۷ء ہماری مستورات یہ عزم اپنے دلوں میں پیدا کر لیں کہ ہم نے ہر قسم کی رسوم کو ترک کر دینا ہے خطبه جمعه فرموده ۳ / مارچ ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ویسے تو طبیعت پہلے سے بہتر ہے مگر کھانسی ابھی چل رہی ہے اور جو ٹسٹ کروایا گیا تھا اس میں دو قسم کے کیڑے نکلے ہیں اور انہوں نے سنسی ٹویٹی ٹسٹ (Sensitivity Test) کر کے دو تین دوائیں بھی معلوم کی ہیں جو ان کیڑوں کو مارتی ہیں مگر چونکہ نئی دوائیں کمزوری بہت پیدا کر دیتی ہیں اس لئے میں نے ان کا استعمال ابھی مناسب نہیں سمجھا۔مجھے خطرہ تھا کہ اس کے نتیجہ میں ضعف پیدا ہوگا اور میں آج جمعہ کے لئے نہیں آسکوں گا اگلے دو ایک روز بھی مشغولیت اسی قسم کی ہے کہ کام چھوڑ کر لیٹا نہیں جا سکتا چار پائی پر۔اس لئے خیال ہے کہ دو تین دن کے بعد ان دواؤں میں سے کوئی ایک شروع کی جائے گی۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالی بیماری کو کلیۂ دور کر دے اور کام کی زیادہ سے زیادہ تو فیق اپنے فضل سے عطا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض یہ ہے کہ تمام اقوامِ عالم پر اسلام کی برتری ثابت کر کے اسلام کو دنیا میں اس معنی میں غالب کیا جائے کہ تمام اقوامِ عالم اسلام کی صداقت کی قائل ہو جائیں اور اس کی برکات اور اس کے انوار سے حصہ لینے والی ہوں۔بعثت