خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 567
خطبات ناصر جلد اول ۵۶۷ خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء جیسا کہ میں نے بتایا ہے جماعت ایک بلند معیار پر قائم ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جلسہ کے دنوں میں گمشدہ چیزوں سے جس دفتر کا تعلق ہوتا ہے وہ چوبیس گھنٹے مصروف رہتا ہے اسی لئے کہ جہاں بھی گری پڑی کوئی چیز مل گئی وہ وہاں پہنچا دی گئی۔پھر ان کو مالک کی تلاش ہوتی ہے دوسرے اجتماعات میں تو مالک کو چور کی تلاش ہوتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے اس اجتماع میں ہمارے اس دفتر کو مالک کی تلاش ہوتی ہے۔چیز اس کے پاس آجاتی ہے پتہ نہیں چلتا کون مالک ہے ایک آدمی کی جیب سے مثلاً بٹوا گر گیا اس کو ضرورت نہیں پیش آئی وہ جلسہ پر جارہا تھا جلسہ سنتا رہا شام کو چار بجے فارغ ہوا پانچ بجے آیا کسی چائے کی دکان پر گیا چائے پی ، جیب میں ہاتھ ڈالا ، بٹوا غائب ! مگر صبح دس بجے سے دفتر والے اس آدمی کی تلاش میں ہیں جس کا بٹوا گر گیا تھا۔ان کو پانچ بجے تک انتظار کرنا پڑا تو یہ صحیح ہے کہ بڑا خوشکن نظارہ ہم جلسہ کے مقدس ماحول میں دیکھتے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کو اپنے اندر قائم رکھنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں تا کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنی یہ برکتیں ہم سے واپس لے لے۔یہ بھی یادر رکھیں کہ باہر سے جو مہمان آتے ہیں ان کے لئے میز بان چاہئیں سارار بوہ ہی میزبان ہے اور ربوہ کے مکینوں پر پہلا فرض ہے کہ رضا کارانہ طور پر ان احباب کی خدمت کریں جلسہ کے انتظام کے ماتحت !!! اور پھر اگر بعض کو سہولت کے ساتھ فارغ کیا جاسکتا ہو تو صرف اس صورت میں یہ بھی ان کو حق دیا جاتا ہے کہ اپنے ایک بچہ کو یا بعض رشتہ داروں کو اپنے گھر کے کام کے لئے یا اپنی دکان پر کام کرنے کے لئے فارغ کروا لیں۔مگر بغیر اجازت کے کسی شخص کو ذاتی کام نہیں کرنا چاہیے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے رضا کار بہت کثرت سے مل جاتے ہیں تو جو جائز ضرورت ہے وہ افسر صاحب جلسہ سالانہ پوری کر دیں گے۔مثلاً اگر کسی کے چار بچے ہیں اگر وہ کہے کہ یہ تین بچے آپ خدمت مہماناں پر لگالیں اور اگر آپ فارغ کر سکتے ہوں تو ایک بچے کو فارغ کر دیں تا کہ یہ میرے ذاتی کاموں میں میرا ہاتھ بٹا سکے یا جو میرے گھر میں مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی خدمت کر سکے۔