خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 565
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء نہیں کرتا لیکن ہمیں اس قسم کا ایک آدمی بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ تدابیر اور دعا سے کامیاب اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔چند ہفتوں کی بات ہے اس سلسلہ میں مجھے بعض مردوں کی طرف سے بھی اور لجنہ اماءاللہ کی طرف سے بھی یہ تحریک کی گئی کہ سختی کے ساتھ اس چیز کو دبانا چاہیے اور کوئی بڑا ہی سخت اقدام کرنا چاہیے ایسے خاندانوں کے خلاف جنہوں نے اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کی اور انہیں سنبھالا نہیں۔اس وقت میرے دل نے یہ فیصلہ کیا مجھے دعا کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور اپنے رب سے ہدایت لینی چاہیے کہ وہ کیا چاہتا ہے کہ میں اس معاملے میں کیا کروں؟ تب ایک خواب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اس جماعت کے بچے بھی اور بڑے بھی مرد بھی اور عورتیں بھی اطاعت کے ایسے مقام پر قائم ہیں کہ ان پر کسی قسم کی سختی کرنے کی ضرورت نہیں پیار سے ان کو سمجھاؤ یہ سمجھ جائیں گے۔و اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کی روشنی میں بڑے درد کے ساتھ اور انتہائی پیار کے ساتھ آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ربوہ میں ایک بچہ بھی ایسا ہے جو اس گند میں ملوث ہے۔اگر ربوہ میں ہماری ایک بچی بھی ایسی ہے جو ایسی گندی عادت میں مبتلا ہے تو خدا کے لئے آپ اس کی تربیت کی طرف متوجہ ہوں اور اس کو بھی دیانت کے اس بلند مقام پر کھڑا کریں دیانت کے جس بلند مقام پر اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو کھڑا کرنا چاہتا ہے۔پھر ان ایام میں اس قسم کے سہو بڑی کثرت سے ہوتے ہیں کسی کا بٹوا کہیں رہ گیا، وضو کرنے لگے گھڑی اُتاری نہیں یا د رہا، کوئی دوست آ گیا با تیں شروع ہو گئیں چلے گئے بعض دفعہ بسترے گاڑی میں رہ جاتے ہیں اور بعض دفعہ جلسہ پر آنے والا ہمارا احمدی بھائی گاڑی میں بسترا رکھ دیتا ہے خود سوار نہیں ہو سکتا۔بعض دفعہ خود سوار ہو جاتا ہے اور سامان پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔عام طور پر ۱۰۰۰/ ۹۹۹ یہی ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کا سامان یا اشیاء بٹوا یا روپیہ جو اس کی جیب سے گر جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ مل جاتا ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے، اس فضل کو اپنی جماعت میں قائم رکھنے کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔دعاؤں کے ساتھ بھی اور تدبیر کے ساتھ بھی۔