خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 42

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۲ خطبہ جمعہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۶۵ء اور اسیر کے لفظی معنی تو قیدی کے ہیں۔لیکن اس کے یہ معنی بھی کئے جاسکتے ہیں وہ شخص جو اپنے حالات سے مجبور ہو کر بطور قیدی کے ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو پوری غذا میسر نہیں اور ان کو ضرورت ہے کہ ان کی مدد کی جائے۔جس کے بغیر وہ اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتے۔ان لوگوں کو ہمارے ابرار بندے کھانا کھلاتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہوئے ان کے دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ زبان حال سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں۔اِنَّمَا نُطْعِكُمْ لِوَجْهِ اللهِ کہ ہم خدا کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے اور اس کی عنایات کو حاصل کرنے کے لئے تمہیں کھانا کھلا رہے ہیں اور لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شكورا ہم اس نیت سے تمہیں نہیں کھلا رہے کہ کبھی تم ہمیں اس کا بدلہ دو اور نہ یہ کہ تم ہمارا شکر یہ ادا کرو۔ہم تم سے کچھ نہیں چاہتے نہ بدلہ چاہتے ہیں نہ ہی شکریہ کے خواہاں ہیں۔ہم محض یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہو جائے إِنَّا نَخَافُ مِنْ ربَّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَنْطَرِيرًا پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں ڈر کے مارے تیوریاں چڑھی ہوئی ہوں گی اور لوگوں کو گھبراہٹ لاحق ہو گی۔( یہ دن قیامت کا ہے اور کبھی ایسا دن اس دنیا میں بھی آجاتا ہے ) کہ کہیں ہم بھی اس دن خدا کے عذاب اور اس کے قہر کے مورد نہ بن جائیں۔اسی لئے ہم یہ نیک کام بجالا رہے ہیں۔اس دنیا میں“ کے الفاظ میں نے اس لئے کہے ہیں کہ بھوک کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے۔جس کی طرف جب قو میں توجہ نہیں دیتیں تو ان قوموں میں بڑے بڑے انقلاب بر پا ہو جاتے ہیں۔جیسے کہ روس میں ریوولیوشن (انقلاب ) اور دوسرے بہت سے ممالک میں انقلاب اسی لئے بر پا ہوئے کہ وہاں اکثر لوگوں کی زندگی کی ضروریات خصوصاً کھانے کا خیال نہیں رکھا گیا۔اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں اور ان آیات سے مستنبط ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جب بھائی بھائی کا خیال نہیں رکھتا اور ایک قوم کی اکثریت اس مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے۔تو اس قوم پر ایک دن انقلاب کا بھی چڑھ آتا ہے۔جس میں بہت سے بڑے اور امیر لوگ چھوٹے اور غریب کر دیئے جاتے ہیں۔وہ دن ان کے پچھتانے کا ہوتا ہے۔جس قوم کے ہر فرد کو اس کی ضروریات میسر آتی رہیں