خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 549 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 549

خطبات ناصر جلد اول ۵۴۹ خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء تھا کہ آئندہ سال جماعت کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کم از کم ایک سو واقف وقف جدید کے انتظام میں پیش کرے۔مجھے بتایا گیا ہے اور اخبار الفضل میں بھی بعض نوٹ چھپے ہیں کہ ابھی تک بہت کم نوجوانوں نے یا جو ان دل ادھیڑ عمر کے احمدیوں نے اس کلاس کے لئے وقف جدید میں نام پیش کئے ہیں۔جو یکم جنوری سے یا جنوری کے پہلے ہفتہ میں شروع ہو رہی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس طرف متوجہ کرنے کے لئے کہ وقف جدید کی تنظیم بڑی اہم ہے اور اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور جماعت کو بھی متوجہ کرنا چاہیے۔میرے دل میں یہ القا کیا کہ میں وقف عارضی کی تحریک جاری کروں کیونکہ وقف عارضی کے جواچھے اور خوشکن نتائج نکل رہے ہیں اور جو فوائد ہم اس سے حاصل کر رہے ہیں۔ان میں سے ایک فائدہ جو ہمیں وقف عارضی سے حاصل ہوا۔وہ یہ ہے کہ جو رپورٹیں سینکڑوں جماعتوں میں وقف عارضی کے واقفین نے کام کرنے کے بعد ہمیں دیں ان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جماعتوں میں وقف جدید کے معلمین کی اشد ضرورت ہے۔تو جو چیز چھپی ہوئی تھی اور وقف جدید کی جو اہمیت ہماری نظروں سے اوجھل تھی وہ وقف عارضی کے واقفین کی رپورٹوں سے ہماری آنکھوں کے سامنے آگئی اور ہم میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم سے ایک بڑا گناہ سرزد ہوا ہے کہ ہم نے اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وقف جدید کے مطالبات پورا کرنے میں اتنی کوشش اور محنت نہیں کی جتنی ہمیں کرنی چاہیے تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو مقصد وقف جدید کے قیام کا تھا وہ پوری طرح حاصل نہیں کیا جا سکا۔پس ایک تو آج میں وقف جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں اور دوسرے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس اعلان کا یہ مطلب نہیں کہ بس میں نے ایک آواز اٹھائی اور وہ آواز اخبار میں چھپ گئی۔لوگ خاموش ہو گئے اور سو گئے۔بلکہ سال نو کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں یہ احساس پیدا ہو کہ نیا سال آ رہا ہے۔مختلف زاویوں اور پہلوؤں سے نئی ذمہ داریوں اور نئی قربانیوں کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے لا سکتے ہیں اور ان میں سے ایک ذمہ داری وقف جدید کی ہے۔