خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 506
خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء کو نبھاتے نہیں۔اللہ تعالیٰ ایک دن ان سے اس عہد کے توڑنے یا اس کی ادائیگی میں غفلت برتنے کے متعلق ضرور سوال کرے گا۔۲۔دوسرا حکم اس میں یہ ہے کہ حبل اللہ کے دوسرے معنی ہیں وہ تمام وسیلے اور ذرائع اور تدابیر جن کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے چنانچہ مفردات راغب میں اس کے یہ معنی دیئے ہیں۔الَّذِي مَعَهُ التَّوَضُلُ بِهِ إِلَيْهِ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْعَقْلِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا إِذَا اعْتَصَبْتَ بِهِ أَذَاكَ إِلى جَوَارِہ کہ وہ تمام وسیلے اور تدبیریں جن کو جب مضبوطی سے پکڑا جائے اور ان پر عمل کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے قرب تک پہنچا دیتے ہیں۔جس میں سے انہوں نے بطور مثال کے قرآن کریم اور عقل انسانی کا ذکر کیا ہے اور یہ بتانے کے لئے کہ بہت سی باتیں ہیں جو اس میں شامل ہیں وغیر ذلِكَ کے الفاظ رکھ دیئے ہیں۔تین بڑی چیزیں ہیں جو قرب الہی کی راہوں کو ہم پر منکشف کرتی ہیں۔سب سے پہلے سب سے اہم تو قرآن کریم ہے جس نے شریعت کی تمام باتوں کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی میں قرآن کریم کی تصویر کامل اور مکمل طور پر ہمارے سامنے پیش کی اور تیسری جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور احادیث ہیں۔جہاں تک قرآن کریم کا تعلق ہے اس میں ایک تو وہ ابدی صداقتیں اور بنیادی ہدایتیں ہیں جو اس دن سے کہ قرآن کریم دنیا میں نازل ہوا قابل عمل ہیں اور اس وقت تک قابل عمل رہیں گی کہ دنیا پر قیامت آجائے۔پھر وقتی اُلجھنوں کو سلجھانے کے لئے قرآن کریم بعض ہدا یتیں دیتا ہے جو جزئیات سے تعلق رکھتی ہیں اور جو وقت کا مطالبہ ہوا سے پورا کرتا ہے۔پہلے زمانوں میں بھی پورا کرتا آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی پورا کر رہا ہے اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں بھی پورا کرتا چلا جائے گا اور جیسا کہ پہلے ہوا اگر خدانخواستہ کبھی خلافت کا سلسلہ منقطع ہوا تو اولیاء اللہ پیدا ہوتے رہیں گے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق قرآن کریم سے نور لے کر دنیا کے اندھیروں کو دور کرتے رہیں گے۔