خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 500
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۰۰ خطبہ جمعہ ۱۸/ نومبر ۱۹۶۶ء یہ نہیں سمجھتے کہ ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی عظمت کا کچھ ایسا جلوہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو بھی اور دنیا کی ساری مخلوق کو بھی مردہ سمجھتے ہیں نہ ہی اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں، نہ دنیا کو کچھ سمجھتے ہیں اور اس عجز کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی اعجازی قدرت کا مظہر بن جاتے ہیں گویا ایسے لوگوں کے لئے فنا اور نیستی کے مقام سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک چشمہ پھوٹتا ہے۔اس لئے دنیا کی کوئی طاقت انہیں مرعوب نہیں کر سکتی انہیں ساری دنیا کے مال کبھی کوئی لالچ نہیں دے سکتے۔جب خدا کا یا اس کے دین کا معاملہ ہو تو کسی دوسرے کے سامنے ان کا سر جھکا نہیں کرتا۔ورنہ وہ تو ایک فقیر اور مسکین کے سامنے بھی جھک رہے ہوتے ہیں اور عاجزی دکھا رہے ہوتے ہیں۔لیکن جب خدا تعالیٰ کے فعل اور قول کا اور خدا تعالیٰ کے نام اور اس کی عظمت کا دنیا اور دنیا داروں سے تصادم ہو جائے۔تو پھر دنیا ان کے پاؤں کی خاک بھی نہیں ہوتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ان کا مربی اور معلم ہوتا ہے۔آپ اس بات کو اچھی طرح یا درکھیں۔پس یا تو ہمارا یہ عقیدہ ہی غلط ہے کہ خلیفہ وقت ساری دنیا کا استاد ہے اور اگر یہ سچ ہے اور یقیناً یہی سچ ہے تو دنیا کے عالم اور دنیا کے فلاسفر شاگرد کی حیثیت سے ہی اس کے سامنے آئیں گے۔استاد کی حیثیت سے اس کے سامنے نہیں آئیں گے۔تو خلیفہ وقت کا انکسار اس کی عاجزی و فروتنی، اس کا تذلل یہی اس کا مقام ہے اور وہ اس ایمان اور یقین پر قائم ہوتا ہے کہ میں لائے ہوں۔کچھ بھی نہیں ہوں۔نہ علم ہے مجھ میں نہ فراست ہے مجھ میں ، نہ ہی کوئی طاقت ہے مجھ میں ، اگر کچھ ہے تو وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے۔وہ جتنا علم دے جتنی طاقت دے جتنی فراست دے اس کی عطا ہے اور اسی کے جلال اور عظمت کے لئے خرچ کی جاتی ہے۔کہیں بھی اس کا اپنا وجود نظر نہیں آتا۔مٹی کے ذرات ہوا میں بکھر جائیں تب بھی ان کا کچھ وجود ہوتا ہے۔لیکن ایسے شخص کا وجود اتنا بھی باقی نہیں رہتا۔تو میں آپ کو وضاحت کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ آپ کا خلیفہ بنائے گا۔اس کے دل میں آپ کے لئے بے انتہا محبت پیدا کر دے گا اور اس کو یہ توفیق دے گا کہ وہ آپ کے لئے اتنی دعائیں کرے کہ دعا کرنے والے ماں باپ نے بھی آپ کے لئے اتنی