خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 35
خطبات ناصر جلد اول ۳۵ خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء تک پہنچا دیا ہے۔ہماری اس آواز کو سنو۔قُم فَانْذِرُ کہ کھڑے ہو جاؤ۔اور ثابت قدمی کے ساتھ قریہ قریہ اور ملک ملک میں پھیل جاؤ اور اقوامِ عالم کو یہ بتاؤ کہ اگر خدا کے مسیح کی آواز پر انہوں نے لبیک نہ کہا تو خدا کا قہران پر نازل ہوگا۔دنیا بظاہر امن میں ہے۔دنیا والے اس وہم میں مبتلا ہیں کہ ہم اپنی کوششوں سے دنیا میں امن قائم کر دیں گے۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں کوئی ہو۔این۔او یا کوئی دوسری کا نفرنسز جو امن کے قیام کے لئے بنائی گئی ہیں ہر گز نتیجہ خیز نہیں ہوں گی۔کیونکہ آسمان اس سے متفق نہیں۔اور خدا تعالیٰ کی نظر سے انسان گر چکا ہے۔پس ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم دنیا والوں کو یہ بتائیں کہ اگر تم اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے زندگی ، امن اور سلامتی چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہو اور اس کے مسیح پر ایمان لاؤ۔خدا کی شریعت کو ر دمت کرو۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہنسی اور ٹھٹھا مت کرو۔اس کے جوئے کے نیچے اپنی گردنیں رکھ دو تب تم امن سے اپنی زندگیاں گزار سکتے ہو۔اور تمہاری نسلیں سلامتی کے ساتھ اس دنیا میں رہ سکتی ہیں ورنہ نہیں۔پس قُم فَانْذِرُ میں یہی حکم ہے اور ہم نے اس کی تعمیل کرنی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اور خدا تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری سانس تک تبلیغ اسلام کے لئے ہر ممکن جد و جہد اور کوشش کرتے چلے جانا ہے۔وَرَبَّكَ فَكَبّر میں فرمایا کہ انذار کی ڈیوٹی تمہارے ذمہ اس لئے لگائی گئی ہے اور یہ حکم تمہیں اس لئے دیا گیا ہے کہ اپنے رب کی عظمت اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم کرو اور اس میں بشارت کا بھی ایک پہلو ہے۔کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب کبھی کوئی فتح کسی مسلمان کو نصیب ہوتی ہے تو بے ساختہ اس کے منہ سے نکلتا ہے۔الله اكبر۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اس وقت تک مسلمان کا یہی شعار اور یہی طریق رہا ہے کہ الہی نفرتوں کو دیکھ کر ان کے دل کی گہرائیوں سے ایک آواز نکلتی ہے جو ان کی زبانوں سے بلند ہوتی ہے اور فضاؤں میں گونجتی ہے اور وہ آواز اللہ اکبر کی ہے۔