خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 485
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۸۵ خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۶۶ء ہماری مرضی ہے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ کی مرضی ہی پوری ہوتی ہے۔میرے اس تو کل اور دعا کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس میں سے بجائے آٹھ دس من کے بائیس تئیس من فی ایکڑ اوسطا نکلی بہت سی زمین میں نے خود کاشت کروائی تھی لیکن دو جانگلی مزارع تھے۔وہ کہنے لگے کہ پچھلے سال جو ہمارا کل مجموعی حصہ تھا۔اس سے زیادہ ہمیں اب ایک ایک ایکڑ سے مل رہا ہے۔اس سال بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔یہ صیح ہے اگر اللہ تعالیٰ میرا بھی امتحان لینا چاہتا اور فصل خراب کر دیتا تو اس کی مرضی اور اس کی رضا میں ہی ہماری خوشی ہوتی۔کبھی وہ اس طرح امتحان لیتا ہے کہ ژالہ باری ہو جاتی ہے اور ا فصل کھڑی کی کھڑی تباہ ہو جاتی ہے کبھی بیماری لگ جاتی ہے اگر ایسی صورت میں ہم اپنے رب سے ( بیوقوفوں والی یا بچوں والی ) ناراضگی کا اظہار نہ کریں گے بلکہ کہیں گے کہ جو کچھ خدا نے کیا وہ ٹھیک ہے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگلے ایک سال یا دو سال میں خدا تعالیٰ چھینی ہوئی فصل بھی آپ کو واپس کر دے گا اور ہو سکتا ہے کہ اگلے سال وہ اس سے بھی زیادہ دے دے کیونکہ سب کچھ اس کے اختیار میں ہے۔تو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنی دین اور عطا واپس لے لیتا ہے لیکن پھر جلد ہی واپس لوٹا دیتا ہے تا کہ اس پر بھروسہ کیا جائے اور اس کے علاوہ کسی دوسرے پر بھروسہ نہ کیا جائے اور انسان توحید خالص پر قائم ہو جائے۔تو امتحان کے وقتوں میں آپ خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی رہا کریں جو ایسا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل سے راضی اور خوش ہوتا ہے اور ان کا جو نقصان ہو۔وہ اکثر اسی دنیا میں پورا کر دیتا ہے۔لیکن اگر اس دنیا میں پورا نہ بھی ہو اور اس کے عوض میں انسان کو ایک ابدی خوشی حاصل ہو جائے تو یہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔بڑا سستا سودا ہے۔تو ایک طرف ہم نے اسلام کو ساری دنیا میں پھیلانا ہے اور قرآن کریم کی اشاعت کے لئے بڑے بڑے مجاہدات کرنے ہیں مالی قربانیاں دینی ہیں۔وقت کی قربانیاں دینی ہیں اور زندگی بھی وقف کرنی ہے۔دوسری طرف جماعت کو اس وقت جتنے واقفین کی ضرورت ہے اتنے نہیں آرہے۔باہر کا ہر ملک لکھ رہا ہے کہ یہاں لوگ ہماری طرف متوجہ ہو رہے ہیں مبلغ کم ہیں۔ہماری طرف مبلغ