خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 481
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۸۱ خطبہ جمعہ اا نومبر ۱۹۶۶ء اسی طرح آگ میں پڑ کے اور دنیا کی گرمی اور ناراضگی مول لینے کے بعد بھی ہم نے اس سے فائدہ نہ اُٹھایا تو ہم سا بدقسمت کوئی نہ ہوگا۔تو یہ تین چیزیں، یہ تین زندگیاں، یہ تین طاقتیں ہیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں متعارف کیا اور جن کے متعلق ہمارے دل میں پختہ یقین پیدا کیا۔وہ یہ کہ قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے۔وہ یہ کہ محمد رسول اللہ ایک زندہ رسول ہیں وہ یہ کہ ہمارا خدا جس نے قرآن کریم نازل کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما یا وہ زندہ خدا زندہ طاقتوں والا اور زندہ قدرتوں والا خدا ہے۔چاہیے۔ان تین زندگیوں سے وابستہ ہو جانے کے بعد کسی احمدی میں کسی قسم کی مردنی نظر نہیں آنی زندہ خدا پر ایمان لانے والے زندہ کتاب کو پڑھنے والے، زندہ رسول سے پیار کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آنے والے کسی فرد میں پژمردگی نہیں پائی جانی چاہیے۔نہ دینی لحاظ سے نہ دنیوی لحاظ سے۔دینی لحاظ سے جو فرائض عائد ہوتے ہیں۔انہیں صرف سن لینے سے تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔”زندہ قرآن“ کہنے سے تو اس کی زندگی اور نور سے حصہ نہیں مل سکتا۔جب تک اسے پڑھیں نہ۔جب تک ان راہوں کو اختیار نہ کریں تقویٰ کی جو راہیں قرآن کریم نے بیان کی ہیں۔خالی یہ کہہ دینا کہ یہ کتاب زندہ ہے کسی شخص کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اس کے لئے عمل چاہیے ! عمل چاہیے !! عمل چاہیے !!! اسی طرح ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ اور دوسری طرف آپ کے اُسوہ کو چھوڑ دینا۔ان دونوں باتوں میں اتنا تضاد ہے کہ کوئی عظمند اس سے متاثر نہیں ہوسکتا۔پس یہ کہنا اور دعوی کرنا کہ ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار ہے۔لیکن ساتھ ہی آپ کی زندگی کے طریق اور اُسوہ کو اختیار نہ کرنا۔جب لوگ یہ دو متضاد باتیں دیکھیں گے۔تو احمق یا منافق سمجھیں گے کہ دعویٰ کچھ ہے اور عمل کچھ ہے۔یادرکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ نہ تھا کہ حلال ذرائع سے بھی کمایا نہ جائے۔بلکہ یہ تھا کہ حلال کمائی نیکی کی راہ میں خرچ کی جائے۔