خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 33

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۳ خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء اور اس پر لبیک کہو۔اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کے غضب اور قہر کا مورد بن جاؤ گے۔پھر فرمایا وَ رَبَّكَ فَكَبَر کہ اپنے رب کی عظمت اور اس کے جلال کو قائم کر۔یہی وہ پیغام ہے جو اسلام دنیا کے لئے لے کر آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی عظمت اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم کیا جائے۔پھر فرما يا وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک ماحول پیدا ہو اور وہ ماحول ہو بھی پاکیزہ۔وہ ماحول ان لوگوں کا ہو۔جن کے متعلق خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے رِجَالُ يُحِبُّونَ اَنْ يتَطَهَّرُوا (التوبة: ۱۰۸) یعنی جو جسمانی ، اخلاقی اور روحانی گندگی اور نجاست سے بچتے ہیں۔پس اس کے لئے ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ پہلے اپنے ماحول کو صاف کرنے کی کوشش کرو۔انہیں تبلیغ کرو انہیں اسلام کی طرف بلاؤ۔ان کے سامنے خدا تعالیٰ کی صفات کو بیان کرو ان کو خدا تعالیٰ کا جلوہ دکھاؤ ان کو بتاؤ کہ تمہارا رب کتنا پیار کرنے والا ہے لیکن اگر تم اس کی طرف متوجہ نہیں ہو گے تو سنو کہ پھر اس کا غضب بھی بڑا خطرناک ہوا کرتا ہے۔تو وَثِيَابَكَ فَطَهَّرُ میں جسمانی ، اخلاقی اور روحانی پاکیزہ ماحول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ - رِجز کے معنی گندگی کے بھی ہیں۔رجز کے معنی عذاب کے بھی ہیں۔رجز کے معنی شرک کے بھی ہیں۔فاهجر میں حکم ہے کہ ان سے دور رہو۔گو یا حکم دیا کہ ہر قسم کی گندگی سے دور رہو اور ایسا سامان پیدا کرنے کی کوشش کرو کہ دنیا خدا کے عذاب سے محفوظ ہو جائے۔یعنی ان کو اعمال صالحہ کی طرف بلاؤ، انہیں اصلاح نفس کی دعوت دو اور کوشش کرو کہ انسانی بتوں کو سجدہ کرنے کی بجائے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف جھکے اور اسی کی پرستش کرے۔پھر فرما یا ولا تمنن تَسْتَكْثِرُ - مَن کے ایک معنی تو ہیں کاٹ دینے کے۔دوسرے معنی ہیں احسان کے بوجھ تلے دبا دینے کے۔تستکثر کہ تا لوگ اس وجہ سے اسلام میں داخل ہوں اور اسلام کو کثرت تعدا دنصیب ہو جائے۔دونوں مذکورہ بالا معنی یہاں چسپاں ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ دنیوی لالچ کے ذریعہ کسی کو اسلام کی طرف مت بلاؤ کیونکہ کسی پر اسلام کا محض لیبل لگ جانا کافی نہیں ہے۔اسلام کی طرف