خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 32

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۲ خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء طریق ہے خصوصاً پڑھی لکھی اور تعلیم یافتہ اقوام کا کہ گھر میں وہ کچھ اور قسم کے کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔لیکن جب کام کے لئے باہر نکلتے ہیں تو اور کپڑے پہن لیتے ہیں۔مثلاً ہمارے ملک میں اور خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے والے افراد خاندان میں یہ طریق جاری ہے کہ باہر نکلتے وقت سر کا لباس اور کوٹ ضرور پہنا جاتا ہے۔یا مثلاً کارخانوں میں کام کرنے والے کام کی غرض سے ایک خاص قسم کا لباس پہنتے ہیں۔تو مدثر میں اسی قسم کا لباس پہنے کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسا شخص جو کام کے لئے تیار ہوتا ہے اور وہ کپڑے زیب تن کرتا ہے جو اس کام کے لئے مناسب حال ہوتے ہیں۔مثلاً فوج اپنی ڈیوٹی پر جاتے وقت فوجی وردی میں ہوتی ہے۔گھر میں اس وردی میں نہیں ہوتے۔پس یہاں فرمایا اے مدثر ! یعنی اے وہ شخص جس نے وہ کپڑے پہن رکھے ہیں جو کام کرنے کے لئے پہنا کرتا ہے۔المُدثر کے یہ معنی بھی ہیں کہ وہ شخص جو مستعدی کے ساتھ اپنے گھوڑے کے پاس کھڑا ہے اور حکم کا منتظر ہے۔کہ کب حکم ملے اور میں چھلانگ لگا کر گھوڑے پر سوار ہو جاؤں اور اس کام میں مشغول ہو جاؤں جس کا مجھے حکم دیا جائے۔قرآن کریم میں تمام احکام کے پہلے مخاطب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں اور پھر اُمت محمدیہ کا ہر فرد اس کا مخاطب ہوتا ہے۔اسی طرح اس آیت میں بھی سب سے پہلے مخاطب ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔اس صورت میں المدیر کا مطلب یہ ہوگا کہ اے وہ شخص جس کو ہم نے پوری طرح تقویٰ کے لباس میں ملبوس کر دیا ہے۔لِبَاسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ (الاعراف: ۲۷) اور اندر اور باہر تقویٰ کا لباس زیب تن کئے ہوئے ہے اُٹھ اور ہمارے حکم کے مطابق اس مشن کو پورا کر جو تیرے سپرد کیا جا رہا ہے اور وہ یہ ہے قُم فَانْذِرُ کہ تو مستعدی سے کھڑا ہو جا اور دوام اور ثبات کے ساتھ اپنے مشن میں لگ جا اور لوگوں کو پکار کہ خدا تعالیٰ تمہیں اپنی واحدانیت کی طرف بلاتا ہے خدا تمہیں اپنی شریعت کے قیام کا حکم دیتا ہے۔خدا کی اس آواز کو غور سے سنو۔