خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 30 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 30

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۳؍دسمبر ۱۹۶۵ء پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے آپ کی یہ خواہش تھی کہ جماعت احمدیہ کا ہر فرد اس مقام کو حاصل کرے جو مقام کہ نور دین (خلیفہ المسیح اول) نے حاصل کیا تھا۔چونکہ ہمارے زمانہ کے مرسل ہیچ موعود، ہمارے امام علیہ السلام کی یہ شدید خواہش تھی۔جسے آپ نے اپنے اس شعر میں بیان فرمایا ہے۔اس لئے میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضور علیہ السلام کی اس خواہش کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں اور دعاؤں کے ساتھ اور مجاہدات کے ساتھ یہ کوشش کرتے رہیں کہ ہم میں سے ہر ایک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا کرنے والا بن جائے۔دراصل اسے پورا کرنا اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنا خدا تعالیٰ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔پس میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی توفیق دے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش اور دیگر خواہشات جو حضور علیہ السلام ہمارے لئے اپنے دل میں رکھتے ہیں پوری کر سکیں تاہم ان انعاموں کے مستحق ٹھہریں جن کی بشارات ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے دی ہیں۔اللهم آمین۔دوسرے خطبہ میں فرمایا :۔آج میں بعض جنازے بھی پڑھاؤں گا ان میں سے ایک جناز ہ محمد عباس صاحب کرنال کی والدہ صاحبہ کا ہے وہ یہاں لایا گیا ہے۔عبداللطیف صاحب بٹ کی والدہ صاحبہ مسماۃ فاطمہ بی بی، بابو محمد اسماعیل صاحب فوق ، حاجی عبداللہ صاحب چک نمبر ۱۳۳ محترم سید بشارت احمد صاحب وکیل حیدر آباد دکن جو صحابی تھے فوت ہو گئے ہیں ان کا جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ان تمام بھائیوں اور بہنوں کو آپ اپنے ذہن میں رکھیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند کرے اور مغفرت کی چادر سے انہیں ڈھانکے اور مسیح موعود علیہ السلام کی معیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں ان کو جگہ دے اور ان تمام فضلوں اور رحمتوں سے ان کو حصہ دے جو ہر آن اللہ تعالیٰ ہمارے محبوب ، ہمارے آقا محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر کرتارہتا ہے۔( روزنامه الفضل ربوہ سالانہ نمبر ۱۹۶۵ء۔۱۹؍دسمبر ۱۹۶۵ء صفحہ ۴ تا ۶ )