خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 29 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 29

خطبات ناصر جلد اول ۲۹ خطبہ جمعہ ۳؍دسمبر ۱۹۶۵ء جب آپ درس دینے کے لئے تشریف لے جاتے تو ایک شخص کو مقرر کر جاتے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر سے باہر تشریف لائیں۔تو مجھے فوراً اطلاع دی جائے۔کیوں؟ تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معیت سے محروم نہ رہیں۔کہنے والے کہتے ہیں کہ جس وقت وہ خادم حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو اطلاع دیتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لئے باہر تشریف لے آئے ہیں تو جو لفظ منہ میں ہوتا اس کے سوا اگلا لفظ آپ منہ سے نہ نکالتے اس جملہ کو ادھورا ہی چھوڑ دیتے ، اپنے عمامہ کوسنبھالتے اور اپنی جوتیوں کو گھسیٹتے ہوئے پہنتے، گویا اتنا وقت بھی دیر نہ لگاتے کہ آرام سے جوتی ہی پہن لیں۔دیوانہ وار حضور علیہ السلام کی طرف دوڑ پڑتے تاکہ حضور علیہ السلام کی معیت ایک لحظہ کے لئے محروم نہ رہیں۔یہ ثانِيَ اثْنَيْنِ والا مقام تھا جو آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا۔آپ کو مثیل ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) ہونے کا مقام حاصل تھا کیونکہ جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد توحید کا نعرہ لگایا تھا اور کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے شک خاتم النبیین تھے ، تمام نبیوں کے سردار تھے، انسانوں میں سے بلند تر مقام پر پہنچے ہوئے تھے لیکن آخر انسان ہی تھے اور آخر ایک دن انہیں فوت ہونا ہی تھا سو فوت ہو گئے۔اگر آج تم میں سے کسی طرح بھی کوئی کمزوری دکھائے گا تو میں اس کمزوری کو دور کرنے اور اُمت مسلمہ میں استحکام کا ذریعہ بننے کے لئے کھڑا کیا گیا ہوں۔پھر خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ امت مسلمہ میں اتنا استحکام اور مضبوطی پیدا کی کہ بعد میں آنے والے خلفاء کے لئے ان کے کام نسبتا آسان ہو گئے۔اسی طرح حضرت خلیفہ اُسیح اول رضی اللہ عنہ کا حال ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ نے جماعت احمدیہ میں بعض کمزوریاں دیکھیں اور آپ نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو یہ بھی نہیں سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک مامور ہیں اور ان کی اطاعت در حقیقت خدا کی اطاعت ہے۔تو آپ نے حتی الوسع دعاؤں کے ساتھ اور تدبیر کے ساتھ جماعت کے استحکام کے لئے وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلے زمانہ میں کیا تھا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى خُلَفَائِهِ -