خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 28
خطبات ناصر جلد اول ۲۸ خطبہ جمعہ ۳؍دسمبر ۱۹۶۵ء ان کا وارث نہیں ہوسکتا۔یقین اس بات پر کہ اس سلسلہ کے لئے قربانیاں دینا اور اوقات عزیزہ کو صرف کرنا اور اموال کو خرچ کرنا ایک ایسی توفیق ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔یقین اس بات پر کہ احمدیت (حقیقی اسلام) کے غلبہ کے لئے جو بشارتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئی ہیں وہ ضرور پوری ہو کر رہیں گی۔جب دل نوریقین سے بھر جائے اور اس کے تمام لوازم بھی متحقق ہو جا ئیں اور جب بندہ اپنے نفس کو کھو کر اور لاشی محض کی حیثیت سے اس کے آستانہ پر گر جائے۔تب خدا تعالیٰ اس بندے کو اُٹھا تا اور کہتا ہے کہ ایک نور دین نہیں بلکہ بہت سے نور دین میں اس جماعت کو دوں گا۔مگر جو پہلے ہے وہ پہلے ہی ہے۔اور جو ذمہ داریاں ان کے وجود کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں وہ قیامت تک ہم پر بھی قائم رہیں گی۔ان میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم جماعت احمد یہ کے تمام افراد، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام پر درود بھیجنے کے ساتھ ساتھ اپنے اس محبوب آقا ( نورالدین ) کو بھی کبھی نہ بھلا ئیں۔اگر چه مامور ایک ہی ہوتا ہے مگر مامور کے ساتھ دنیا میں ایسے وجود بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ثانی اثنین قرار دیا ہے یعنی دو میں سے ایک گویا وہ شخص اس مامور سے اتنا قریب ہوتا ہے کہ کوئی تیسرا ان کے درمیان نہیں ہوتا۔یہ وہ مقام تھا جو حضرت خلیفہ اسیج اول رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ملا تھا اور یہ اس محبت اور عشق کا نتیجہ تھا۔جو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے تھی اور یہ اس عزم کا نتیجہ تھا جو آپ کے دل میں گڑا ہوا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک امام اپنی طرف سے عطا کیا ہے۔اس کی آواز پر لبیک کہنا ہمارا فرض ہے۔آپ کی زندگی میں بے شمار مثالیں ایسی ملتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جو اطاعت آپ میں پائی جاتی تھی اس زمانہ میں دنیا میں اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔آپ کا حال یہ تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام کی آواز کان میں پڑی اور آپ ہر کام چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ہماری روایات میں ہے کہ