خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 410 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 410

خطبات ناصر جلد اول ۴۱۰ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمیں بہت زیادہ واقفین کی ضرورت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے یہ احساس ہے کہ تربیت قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے اس کے جاننے اور اس کا عرفان حاصل کرنے کے لحاظ سے جماعت میں ضعف اور کمزوری پیدا ہو رہی ہے اور اب جو واقفین عارضی جماعتوں میں گئے جن کا پہلا اور ضروری کام ہی قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے اور تربیت کے دوسرے امور کی طرف متوجہ کرنا تھا اور یہی کام ان کا آئندہ بھی رہے گا تو ان کی رپورٹوں سے معلوم ہوا کہ بہت سی جماعتوں میں تربیتی نقطہ نگاہ سے کافی کمزوری پیدا ہو گئی ہے۔گوان کے دلوں میں ایمان کی چنگاری موجود ہے لیکن وہ شیطانی راکھ کے اندر دبی ہوئی ہے اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ان میں سے ایک مثال میں بیان کرتا ہوں میں نے ایک بزرگ کو ایک ایسی جماعت میں بھیجا جو تعداد میں بہت بڑی ہے۔انہوں نے وہاں جا کے مسجد میں ڈیرہ لگا لیا اور دعائیں کرنے لگ گئے۔انہوں نے جماعت کو قرآن کریم پڑھنے کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے دیکھا کہ شروع میں جماعت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔پہلے ہفتہ انہوں نے یہ رپورٹ بھیجی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مرچکی ہے اور اس کے زندہ ہونے کی اب کوئی امید نہیں۔دوسرے ہفتہ کی رپورٹ بھی اس قسم کی تھی۔تیسرے ہفتہ کی رپورٹ میں انہوں نے لکھا کہ میں نے پہلے جو رپورٹیں بھجوائی ہیں وہ سب غلط تھیں جماعت مری نہیں بلکہ زندہ ہے لیکن خواب غفلت میں پڑی ہوئی ہے۔اگر اس کی تربیت کی جائے اور اسے جھنجھوڑا جائے تو اس کی زندگی کے آثار زیادہ نمایاں ہو جائیں گے۔وہ زندگی جو جماعت ہائے احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بدولت اسلام اور قرآن کریم کے ذریعہ اپنے رب سے حاصل کی ہے۔غرض بہت سی جماعتوں میں بڑی سستی پائی جاتی ہے لیکن یہ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْما ( طه: ۱۱۶) والی بات ہے۔وہ مردہ نہیں لیکن حالات ہی لوگوں کے کچھ ایسے ہیں کہ ان کے اندر غفلت پیدا ہو گئی ہے اس کی بڑی ذمہ داری تو مرکز پر ہے۔یا جماعت بحیثیت مجموعی اس کی ذمہ دار ہے۔مثلاً آپ یہ دیکھیں کہ مغربی پاکستان میں ایک ہزار کے قریب ہماری جماعتیں ہیں۔ان کے علاوہ بہت سی جگہوں پر احمدی موجود ہیں وہ اتنی تھوڑی تعداد میں ہیں کہ وہاں کوئی جماعت قائم نہیں۔گو