خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 401 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 401

خطبات ناصر جلد اول ۴۰۱ خطبہ جمعہ ۶ارستمبر ۱۹۶۶ء میں کیا ہے قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبُهُمُ اللهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرُكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ - (التوبة : ١٤) کہ یہ لوگ تمہارے مقابلے میں تلواریں لے کر نکلے ہیں۔ہماری طرف سے تمہیں یہ بشارت ہے کہ تم کا میاب ہو گے نا کام نہیں ہو گے۔ناکامی ان منکروں اور منافقوں کی قسمت اور حصہ میں ہے۔تم ان سے لڑو اور جنگ کرو۔اگر اللہ چاہتا تو پہلی قوموں کی طرح تمہیں جنگ کی دعوت نہ دیتا بلکہ خود آسمانی عذاب سے ان کو ہلاک کر دیتا لیکن خدا نے تمہیں خوش کرنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دلوائے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور آسمانی نصرت تمہیں حاصل ہوگی، تا دنیا دیکھے کہ جو خدا کے ہو جاتے ہیں اور جنہیں خدا کی نصرت حاصل ہوتی ہے وہ تھوڑے، کمزور اور نہتے ہونے کے باوجود اپنے طاقتور، امیر اور ہر طرح ہتھیاروں سے لیس دشمن پر غالب آتے ہیں۔وَ يَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ اس طریق پر نشانات کو پورا کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو شفا دیتا ہے اور شیطانی وساوس سے ان کی حفاظت کرتا ہے۔شفاء کے معنی صرف یہی نہیں کہ پہلے بیمار ہو اور پھر اسے صحت ہو جائے شفاء کے معنی یہ بھی ہیں کہ بیماری سے محفوظ کر لے۔جیسا کہ آج کل بھی بعض دوائیں بیماری سے محفوظ کرنے کے لئے دی جاتی ہیں۔مثلاً ہیضہ وغیرہ کے ٹیکے لگتے ہیں۔اس وقت ہیضہ کا مرض لاحق تو نہیں ہوتا بلکہ وہ ٹیکہ ہیضہ سے محفوظ رکھنے کے لئے لگایا جاتا ہے۔اس معنی میں بھی کیشف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔تو فرماتا ہے کہ جو بشارتیں ، جو آسمانی نشان اور آیات کے وعدے تمہیں دئے گئے ہیں میں انہیں پورا کرتا ہوں تا کہ تم شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہو۔اور ان سے تمہیں ہمیشہ نجات ملتی رہے۔قرآن کریم نے شفاء لِمَا فِي الصُّدُورِ کی تفسیر میں مختلف طریقے بیان کئے ہیں۔میں نے اس وقت صرف ایک مثال اپنے دوستوں اور بھائیوں کے سامنے بیان کی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کتاب مَوْعِظَةٌ اور شفاء ہی نہیں بلکہ ھدی بھی ہے۔