خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 384 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 384

خطبات ناصر جلد اول ۳۸۴ خطبہ جمعہ ۹ر ستمبر ۱۹۶۶ء ماتحت کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے سارے قدیم عہد ساقط کر دئے ہیں اور ان کی پابندی تم سے اٹھا لی ہے۔اب اس نبی اُمی خاتم النبیین کے ہاتھ پر اپنے رب سے نئے عہد باندھو، تا اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے پہلے سے زیادہ وارث بن سکو۔یہ ایک معنی ہیں يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمُ کے!! پھر فرمایا وَ الْأَغْللَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ، بہت سی قومیں ایسی بھی تھیں جن کا رشتہ اپنی شریعتوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کہیں پہلے ٹوٹ چکا تھا اور شریعت کی بجائے من گھڑت بدرسوم اور بدعات شنیعہ میں وہ جکڑی ہوئی تھیں اور یہی ان کا مذہب تھا۔خود ساختہ قیود اور پابندیاں ان کو نیکیوں سے محروم کر رہی تھیں اور ان کی تباہی کا باعث بن رہی تھیں اور انہیں ان کے رب سے دور کر رہی تھیں۔تو فر ما یاوَ الْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ اللہ تعالیٰ کے اس رسول نبی امی نے ان تمام رسوم اور بدعات کو یکسر مٹا دیا ہے۔اگر تم قرب الہی چاہتے ہو تو رسوم اور بدعات کی بجائے قرآنی راہ ہدایت اور صراط مستقیم تمہیں اختیار کرنا پڑے گا۔جب تک رسوم و بدعات کے دروازے تم اپنے پر بند نہیں کر لیتے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے تم پر کھل نہیں سکتے۔اس کے بعد فرما یا فَالَّذِينَ آمَنُوا بِه یعنے اب وہی لوگ قرب الہی اور فلاح دارین حاصل کر سکتے ہیں جو قرآن مجید پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں اور دل سے اس نبی کو اور اس پر نازل ہونے والی شریعت کو حق ، نور اور راہ نجات یقین کرتے ہیں اور جرات اور دلیری کے ساتھ اس دلی یقین کا زبان سے اقرار کرتے ہیں اور بر ملا اس کا اظہار کرتے اور اس ہدایت کی اشاعت میں کوشاں رہتے ہیں اور اپنے اعضاء اور جوارح اور اپنے قول اور فعل اور عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کے ایمان کا دعوی حقیقتا سچا ہے تو فَالَّذِينَ آمَنُوا بِہ میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔(۱) اول دل سے یقین کرنا۔کوئی کھوٹ نہ ہو کوئی کمزوری نہ ہو۔(۲) پھر زبان سے یہ اقرار کرنا کہ ہمارے دل اس صداقت کو مان چکے ہیں۔اظہار کے مفہوم میں ہی یہ بات پائی جاتی ہے کہ پختہ ایمان والا شخص تبلیغ اسلام میں ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔دلی ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ جرأت اور دلیری کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کرے اور لوگوں کو بتائے کہ جس شریعت پر میں