خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 383 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 383

خطبات ناصر جلد اول ۳۸۳ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۶۶ء یہ وہ عہد ہے جو ہر نبی کی اُمت اپنے رب سے کرتی رہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو قو میں اہل کتاب میں شمار ہوتی تھیں یا ہوسکتی تھیں وہ اقوام اظہار بھی کرتی تھیں کہ ہم خدا کی نازل کردہ ایک شریعت پر قائم ہیں اور ہم نے اپنے رب سے یہ عہد کیا ہے کہ آئندہ بھی اس پر قائم رہیں گے بلکہ اس شریعت کو قائم کریں گے اور بنی اسرائیل کا بھی اپنے رب سے یہ عہد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو شریعت تو رات کی شکل میں موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمائی ہے۔وہ اس پر عمل کریں گے اور اس پر قائم رہیں گے۔تو اگر چہ یہ شریعتیں ایک حد تک محرف و مبدل ہو چکی تھیں اور انسانی ہاتھوں نے بہت سی بدعتیں ان میں شامل کر دی تھیں۔لیکن ان کے پیرو بہر حال انہیں روحانی صداقتیں اور روحانی حقائق بتلاتے تھے اور کہتے تھے کہ اپنے رب سے جو پختہ عہد انہوں نے باندھا ہے اس پر قائم رہنا ان کے لئے ضروری ہے۔چونکہ اس وقت دنیا کی یہ حالت تھی اور ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا کے لئے ، تمام جہانوں کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔اس لئے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ اعلان کیا جا تا کہ اللہ تعالیٰ نے سب پہلی شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے اور پہلی قوموں نے اپنے اپنے رسول کے ذریعہ جو عہد اپنے اللہ سے باندھا تھا ان کا رب اس عہد کو ساقط کرتا اور ان اُمتوں کو اس عہد سے آزاد کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر نیا عہد باندھنے کی تلقین کرتا ہے۔پس اس چھوٹے سے فقرہ (وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمُ ) میں اعلان کیا گیا ہے کہ پہلی شریعتیں منسوخ اور پہلے عہد جو تھے وہ سب ساقط ہو گئے ہیں۔کیونکہ اضر کے ایک معنی اس پختہ اور تاکیدی عہد کے ہیں جو عہد شکن کو عہد شکنی کی وجہ سے نیکیوں اور ان کے ثواب سے محروم کر دیتا ہے۔چونکہ نیکیوں کی تعلیم آسمان سے آتی ہے اور ثواب اور اجر کا دینا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس لئے اس عہد سے مراد عہد بیعت ہی ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ سے کیا جاتا ہے۔پس فرمایا کہ ہمارا یہ رسول، نبی اُمی دنیا میں اعلان کرتا ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے