خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 362
خطبات ناصر جلد اول ۳۶۲ خطبہ جمعہ ۱۹ /اگست ۱۹۶۶ء کے موقع پر لوگوں میں رائج ہیں ان کے نتیجہ میں اسراف کی راہوں کو اختیار کیا جاتا ہے۔تم ان را ہوں کو اختیار نہ کرو اور سادہ زندگی اختیار کر کے اپنے خرچوں کو کم کر دو۔تو اس کے نتیجہ میں بھی تمہاری قربانی اور انفاق فی سبیل اللہ کی طاقت اسی نسبت سے بڑھ جائے گی۔مثلاً ایک شخص کی سو روپیہ ماہوار آمد ہے اور اس کو اپنی ذات اور اپنے خاندان پرانی روپیہ ماہوار خرچ کرنے کی عادت پڑی ہوئی ہے اور بعض باتوں میں وہ اسراف کرتا ہے اور سادگی کی تعلیم پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔اگر وہ سادہ زندگی کو اختیار کرے اور اس کا خرچ اتنی روپیہ سے گر کر ستر روپیہ ماہوار پر آ جائے تو اس کو سادگی کے اختیار کرنے کے نتیجہ میں دس روپیہ ماہوار زیادہ قربانی کرنے کی طاقت حاصل ہوگئی۔اگر وہ چاہے تو خدا کی راہ میں اسے دے سکتا ہے۔اس لئے میں تفصیل میں جائے بغیر ، احباب جماعت کو اور جماعتی نظام کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کے مطالبات میں سادہ زندگی کے جو مطالبات رکھے ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے بہت سی جماعتیں اور بہت سے افراد اس چیز کو بھولتے جارہے ہیں۔اگر ہم مثلاً بد قسمتی سے سینما دیکھنے کے عادی ہوں اور اب سینما دیکھنا چھوڑ دیں تو وہ دس پندرہ روپے جو ہم سینما دیکھنے پر خرچ کرتے تھے وہ ہمارے پاس بیچ رہیں گے اور اگر ہم چاہیں تو یہ رقم خدا کی راہ میں دے سکتے ہیں۔پس میں جماعت کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کے وہ مطالبات جو سادہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کو جماعت میں دہرایا جائے اور افراد جماعت کو پابند کیا جائے کہ وہ ان مطالبات کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو سادہ بنا ئیں۔اسی طرح بہت جگہ سے یہ شکایت آتی رہتی ہے کہ بعض خاندانوں میں رسوم اور بد عادات عود کر رہی ہیں۔مثلاً شادی کے موقع پر اسراف کی راہوں کو اختیار کیا جاتا ہے اور بلاضرورت محض نمائش کے طور پر بہت سا خرچ کر دیا جاتا ہے۔بعض لوگ تو اس کے نتیجہ میں مقروض ہو جاتے ہیں اور پھر ساری عمر ایک مصیبت میں گزارتے ہیں۔یہ تو وہ سزا ہے جو اللہ تعالیٰ ان کو اس دنیا میں دے دیتا ہے لیکن ایک اور سزا ہے جو بظاہر ان کو نظر نہیں آتی کہ اس کے نتیجہ میں وہ بہت سی ایسی