خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 360 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 360

خطبات ناصر جلد اول ۳۶۰ خطبہ جمعہ ۱۹ /اگست ۱۹۶۶ء نہیں رکھتے اور جنہیں نفسانیت اور خود غرضی سے کوئی نجات نہیں ملی اور حقیقی خدا کا چہرہ ان پر ظاہر نہیں ہوا۔وہ اپنے مذاہب کی اشاعت کی خاطر ہزاروں لاکھوں روپیہ دے دیتے ہیں اور بعض اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔عیسائیوں میں دیکھا ہے کہ بعض عورتوں نے دس دس لاکھ کی وصیت کر دی ہے۔پھر مسلمانوں کے لئے کس قدر شرم کی بات ہے کہ وہ اسلام کے لئے کچھ بھی کرنا نہیں چاہتے یا نہیں کرتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اسلام کے روشن چہرہ پر سے وہ حجاب جو پڑا ہوا ہے۔دور کر دے اور اسی غرض کے لئے اس نے مجھے بھیجا ہے۔دوست جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سی اور غریب جماعت کو ساری دنیا کے مقابلہ پر لا کھڑا کیا ہے اور فرمایا کہ تمام ادیان باطلہ کا مقابلہ کرو اور انہیں شکست دو اور اسلام کی خوبیوں کو ظاہر کر کے اسے ان پر غالب کرو۔اس جماعت کے مقابلہ میں ایک طرف ان طاغوتی طاقتوں کو بڑی قوت اور وجاہت اور اقتدار اور مال دیا کہ اربوں ارب روپیہ وہ اسلام کے خلاف خرچ کر رہے ہیں۔اور دوسری طرف اپنی اس جماعت کو بڑے ہی وعدے دیئے اور فرمایا کہ تم ان اقوام اور ان مذاہب کی طاقت کو دیکھ کر گھبرانا نہیں اور ان کے اموال پر نظر کر کے تمہیں پریشانی لاحق نہ ہو۔کیونکہ میرا تم سے یہ وعدہ ہے کہ اگر تم میری بھیجی ہوئی تعلیم پر عمل کرو گے اور میرے بتائے ہوئے طریق پر چلو گے تو تھوڑے ہونے کے باوجود اور کمزور ہونے کے باوجود اور غریب ہونے کے باوجود آخری فتح اور کامیابی تمہارے ہی نصیب ہوگی۔اس چیز کو دیکھتے ہوئے اور اس چیز کو سمجھتے ہوئے ہم پر بڑی ہی قربانیوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جن میں سے ایک مالی قربانی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ مطالبہ تو نہیں کیا کہ ہم اپنی طاقت اور استعداد سے بڑھ کر اس کی راہ میں قربانی دیں۔کیونکہ ایسا مطالبہ غیر معقول ہوتا اور اللہ تعالیٰ تو عقل اور حکمت اور علم اور نور کا سر چشمہ ہے۔وہ تو نور ہی نور ہے۔اس کی طرف سے اس قسم کا کوئی مطالبہ ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں یہ ضرور بتاتا ہے کہ میں نے قوتِ استعدا د اور