خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 320
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۲۰ خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۶۶ء یہاں ہمیں یہ بتایا کہ چونکہ یہ الکتاب نازل کی جا چکی ہے۔جس میں کوئی خامی اور نقص نہیں بلکہ اس میں ساری کی ساری خوبیاں جمع کر دی گئی ہیں۔فِيْهَا كُتُبُ قَيَّمَةٌ (البينة : ۴) یہ سب کی سب قرآن کریم کا ہی حصہ تھیں جواب پھر قرآن کریم میں اپنی اپنی جگہ پر رکھ دی گئی ہیں بلکہ بہت کچھ زائد بھی اس میں رکھا گیا ہے۔اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اگر تم اس ہدایت کے مطابق عمل کرو گے تو تمہاری عبادت کامل اور مکمل ہوگی۔دوسری بات اس آیت میں ہمیں یہ بتائی گئی ہے فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّيْنَ کہ عبادت کا مفہوم یہ نہ سمجھناکہ اللہ اللہ کہ دیا یا درود پڑھ لیا یا سبحان اللہ پڑھ لیا یا الحمدللہ کہ لیا۔قرآن کریم کے نزدیک صرف اتنا یا محض اتنا کوئی عبادت نہیں۔اگر کوئی شخص مثلاً دس ہزار دفعہ درود پڑھتا ہے۔لیکن اس میں اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے اُسوہ حسنہ نہیں بنا یا۔تو اس درود پڑھنے کا اسے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔جب ہم درود پڑھیں تو ہمیں چاہیے کہ اس نیت سے پڑھیں کہ اے خدا! تو نے دنیا میں ہمارے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نہایت ہی اعلیٰ نمونہ بنایا ہے۔اور تو نے اسے اس لئے نمونہ بنایا ہے تا کہ ہم اس کی پیروی کریں اس کے نمونہ پر چل کر اس کے اخلاق اپنے اندر پیدا کریں اور اس کے رنگ سے رنگین ہوں تو ایسا درود ہمیں فائدہ دے گا۔لیکن اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں درود تو پڑھتا ہوں لیکن میں آپ کے نمونہ کی پیروی کرنا نہیں چاہتا۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عبادت نہیں۔فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ دین کے ایک معنی اطاعت بھی ہیں۔فرمایا تمہاری عبادت تب میری حقیقی عبادت کہلائے گی جب تم اس کے ساتھ میرے تمام حکموں پر عمل بھی کرو گے اور پھر عبادت خالص ہو یعنی بغیر کسی ریاء اور بغیر کسی کھوٹ کے ادا کی گئی ہو۔اَخْلَص کے مفہوم میں عربی زبان کے مطابق دو باتیں پائی جاتی ہیں ایک ریاء کا نہ ہونا دوم کھوٹ کا نہ ہونا۔اَخْلَصَ الطَّاعَةَ کے معنی ہیں اس نے اطاعت میں کوئی ریاء نہیں برتا۔مثلاً ظاہر میں اللهُ اللهُ کہا یا ظاہر میں بہت عبادت کی لیکن اس کا باطن اطاعت سے انکار کرتارہا تو یہ اخلاص کے خلاف ہے۔تو فر ما یا کہ ہم تمہیں حکم دیتے ہیں۔