خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 312

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۱۲ خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ت نُزِيلُ الكِتب مِنَ اللهِ کہ اس کتاب کو وحی کے ذریعہ محمد رسول اللہ پر اُتارنے والی وہ ذات ہے جسے اللہ کے نام سے اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔الکتاب کے لغوی معنی یہ ہیں کہ وہ صحیفہ آسمانی جس میں تمام ضروری فرائض اور احکام کامل اور مکمل طور پر بیان ہوئے ہوں اور جو اقوام عالم کی تقدیر اور قسمت کا فیصلہ کرنے والی ہو۔اسی لئے سورة حم السجدہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو بشیر بھی کہا ہے اور نذیر بھی کہا ہے۔یعنی قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو تمام بنی نوع انسان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی ہے۔قیامت تک تمام جہانوں کی تقدیر قرآن کریم سے وابستہ کر دی گئی ہے اور جولوگ قرآن کریم کی ہدایات کو سمجھنے اور پہچاننے والے، جو لوگ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے اور قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو جن صفات کے ساتھ ہمارے سامنے رکھا ہے۔اس کا عرفان رکھنے والے اور اپنی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزارنے والے ہیں۔ان کے لئے قرآن کریم بطور بشیر کے پیش کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اللہ تعالیٰ کے فعل نے ہر زمانہ میں اس بات پر مہر لگا دی ہے کہ قرآن کریم کو جو بشیر کا نام دیا گیا ہے وہ بالکل برحق ہے اس میں کوئی غلطی نہیں کیونکہ یقیناً ہر مقام پر اور ہر زمانہ میں قرآن کریم کے کامل متبعین کو وہ روحانی اور جسمانی، دینی اور دنیوی نعماء ملیں جن کی بشارت قرآن کریم نے اپنے ماننے والوں کو مختلف مقامات پر دی تھی۔اور وہ لوگ جو قرآن کریم کے مقابل کھڑے ہوئے جنہوں نے اس خدا کو جھٹلایا جسے اس کی کامل صفات کے ساتھ قرآن کریم پیش کرتا ہے۔ان لوگوں کے متعلق قرآن کریم کے بتائے ہوئے انذار حرف بحرف پورے ہوئے اور قرآن کریم نے اپنی پیشگوئیوں میں کہیں کوئی غلطی نہیں کی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے تاریخ اسلام یعنی اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت اس بات پر گواہ ہے کہ قرآنِ کریم بشیر بھی ہے اور نذیر بھی ہے۔اللہ تعالی نے اس آیت میں فرمایا کہ یہ کال اور مکمل کتاب ہے جس میں فطرت انسانی کے لئے ، اس فطرت انسانی کے لئے جو اپنے عروج اور بلوغت کو پہنچ چکی تھی۔تمام وہ ہدایات موجود ہیں جن