خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 246
خطبات ناصر جلد اول ۲۴۶ خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۶۶ء کے مطابق ہماری آمدنی تین ہفتوں میں ۲۱,۵۷٫۷۸۷ روپے سے بڑھ کر ۲۵٫۹۱٫۴۷۷ روپے تک پہنچ گئی ہے گویا ان تین ہفتوں میں مبلغ ۴,۳۳,۶۹۰ روپیہ موصول ہوا اور ابھی یہ سال کی پوری آمد نہیں کیونکہ بہت سی رقمیں منی آرڈر کر دی گئی ہیں لیکن وصول ہو کر خزانہ میں داخل نہیں ہوئیں اور بہت سی رقوم ہیں ( مثلاً کراچی کی ) جو بنک میں جمع کرا دی گئی ہیں لیکن ان کی ہمیں اطلاع ابھی نہیں آئی اس لئے وہ رقم آمد میں جمع نہیں کی جاسکی۔میرا اندازہ یہ ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ مزید ساٹھ ستر ہزار روپیہ جو پچھلے سال کی آمد میں محسوب ہے تین چار دن تک یہاں پہنچ جائے گا اس طرح گویا ان تین ہفتوں میں کم و بیش پانچ لاکھ روپے کی آمد ہوئی۔جب ہم اس آمد کا ۶۶ - ۶۵ ء کے بجٹ سے مقابلہ کرتے ہیں تو اس کی پوزیشن یہ بنتی ہے ۶۶ - ۵ - ۵ تک جو اصلی آمد ہوئی وہ ۷ ۲۵,۹۱٫۴۷ روپیہ ہے۔حالانکہ بجٹ ۲۵,۲۴,۲۸۰ روپیہ ہے۔پس مبلغ ۱۹۷, ۶۷ (ستاسٹھ ہزار روپیہ بجٹ سے زیادہ آمد ہوئی اور امید ہے کہ ۶۰ یا ۷۰ ہزار روپیہ کی رقم جو اسی سال میں محسوب ہے جلد ہی وصول ہو جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔اس طرح ۶۶ - ۶۵ ء کے بجٹ کی نسبت قریباً ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ کی آمدنی زائد ہوگی۔جب ہم ۶۶ - ۶۵ء کی آمد کا ۶۵ - ۶۴ء کی آمد سے مقابلہ کرتے ہیں تو پوزیشن یہ بنتی ہے۔۶۶ - ۶۵ء کی آمد ۲۵,۹۱,۴۷۷ روپیہ اور ۶۵ - ۶۴ء کی آمد ۲۴٫۶۴,۳۳۳ روپیه ہوئی۔اس طرح ۶۵ - ۶۴ء کی آمد کی نسبت اس سال اس وقت تک کی آمد مبلغ ۱٫۲۷٫۱۴۴ روپیہ زیادہ ہوئی ہے اور اگر متوقع آمد ۶۰,۰۰۰ کو اس میں شامل کر لیا جائے تو ۶۶ - ۶۵ء کی آمد قریباً ایک لاکھ نوے ہزار روپیہ زیادہ ہوتی ہے۔اگر ہم ۶۶ - ۶۵ء کی آمد کا ۶۵ - ۶۴ء کے بجٹ سے مقابلہ کریں تو یہ زیادتی قریباً اڑھائی لاکھ روپیہ ( ۲۴۶۱۴۷) بنتی ہے۔جب یہ اعداد و شمار میرے سامنے آئے تو میرا دل خدا کی حمد سے بھر گیا اور میرے تمام احساسات اور جذبات کو اس نے اپنے گھیرے میں لے لیا۔میرے پاس وہ الفا ظ نہیں اور نہ میں