خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 237
خطبات ناصر جلد اول ۲۳۷ خطبہ جمعہ ۲۹ را پریل ۱۹۶۶ء کبر و غرور اور خود پسندی و خود نمائی کو چھوڑ کر فروتنی اور ب نفسی کی عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے کی کوشش کرو خطبه جمعه فرموده ۱/۲۹ پریل ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ہمیں یہ یا درکھنا چاہیے کہ جب تک ہم کبر و غرور ، خود پسندی، خود نمائی ،تحقیر و استہزاء، نخوت وخودسری کو کلیتاً چھوڑ کر نیستی کا چولہ پہنیں، فروتنی اور بے نفسی کی عاجزانہ راہوں سے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں اس وقت تک قرب و وصال الہی کی وہ نعمتیں ہم حاصل نہیں کر سکتے جو ایک سچے مسلمان اور حقیقی احمدی کے لئے مقدر ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تکبر سے بچنے پر بہت زور دیا ہے اور بار بار تاکید فرمائی ہے کہ ہمیں تکبر کی بار یک دربار یک قسموں سے بھی بچتے رہنا چاہیے تا ہم جادہ عبودیت سے بھٹک نہ جائیں اور اس توحید حقیقی سے دور نہ جا پڑیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور کبریائی کی سچی معرفت سے حاصل ہوتی ہے اور جس کے نتیجہ میں انسان کے نفس پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور پھر اپنے حی و قیوم خدا کے فیضان اور احسان سے ایک نئی زندگی پاتا ہے۔پس ضروری ہے کہ ہم ہر قسم کے تکبر سے بچنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اے کرم خاک چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبر حضرت ربّ غیور کو