خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 230
خطبات ناصر جلد اول ۲۳۰ خطبہ جمعہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۶۶ء اس طرح یکم نومبر ۶۵ ء سے ۳۱ /اکتوبر ۶۶ ء تک ایک سال بنے گا میں اس لئے ایسا کر رہا ہوں تا کہ دفتر سوم بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف منسوب ہو اور چونکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے اعلان کی توفیق دے رہا ہے اس لئے میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے بھی اپنے فضل سے ثواب عطا کرے گا اور اپنی رضا کی راہیں مجھ پر کھولے گا۔پس میں چاہتا ہوں کہ دفتر سوم کا اجراء یکم نومبر ۱۹۶۵ء سے ہو۔دورانِ سال نومبر کے بعد جو نئے لوگ تحریک جدید کے دفتر دوم میں شامل ہوئے ہیں ان سب کو دفتر سوم میں منتقل کر دینا چاہیے اور تمام جماعتوں کو ایک باقاعدہ مہم کے ذریعہ نوجوانوں، نئے احمدیوں اور نئے کمانے والوں کو دفتر سوم میں شمولیت کے لئے تیار کرنا چاہیے۔دوست جانتے ہیں کہ یہاں ہر سال خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت بڑھتی ہے اور نئے احمدی ہوتے ہیں وہاں ہزاروں احمدی بھی ایسے ہوتے ہیں جو نئے نئے کمانا شروع کرتے ہیں یہ ہماری نئی پود ہے اور ان کی تعداد کافی ہے کیونکہ بچے جوان ہوتے ہیں، تعلیم پاتے ہیں اور پھر کما نا شروع کرتے ہیں اور باہر سے بھی ہزاروں کمانے والے احمدیت میں شامل ہو رہے ہیں۔اس طرح ہمیں کافی تعداد میں ایسے احمدی مل سکتے ہیں جو دفتر سوم میں شامل ہوں۔ہمارا یہ کام ہے کہ ہم ان کو اس طرف متوجہ کریں تا کہ وہ عملاً دفتر سوم میں شامل ہو جائیں۔سویکم نومبر ۱۹۶۵ء سے دفتر سوم کا اجراء کیا جاتا ہے۔تحریک جدید کو چاہیے کہ وہ فوراً اس طرف توجہ دے اور اس کو منظم کرنے کی کوشش کرے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چند دن کے بعد یعنی یکم مئی سے ہمارا نیا مالی سال شروع ہو رہا ہے اس کے متعلق جماعتوں کو یا درکھنا چاہیے۔کہ تساہل اور خوف سے کام نہ لیں۔ان ہر دو وجوہ کی بنا پر ہمارا بجٹ صحیح تشخیص نہیں ہوتا بعض جماعتیں تساہل سے کام لیتی ہیں اس طرح جو نام بجٹ میں آنے چاہئیں وہ نہیں آتے اور بعض جماعتیں اس خوف سے کہ اگر کمزوروں کو بجٹ میں شامل کیا گیا تو ہمارا چندہ اتنے فیصدی وصول نہیں ہو گا جتنے فیصدی چندہ پر گرانٹ ملتی ہے۔صحیح حالات مرکز کے سامنے نہیں رکھتیں اور اس خوف کی وجہ سے صحیح بجٹ نہیں بنا تیں۔