خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 224
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۲۴ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء ور نہ مرکز میں رہتے ہوئے اور پھر اپنے مقام کے لحاظ سے مرکزی نقطہ ہوتے ہوئے بھی مشکل سے ایسے تیر ہم تک پہنچ سکتے ہیں۔لیکن الہبی اذن سے پہنچ ہی جاتے ہیں اور پھر ہماری خوشی کا باعث ہوتے ہیں۔اس قسم کی تکالیف ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہیں اور جب تک ہمارے عروج کا زمانہ نہیں آجاتا وہ لگی ہی رہیں گی۔سو ان آزمائشوں میں ہم نے ضرور گزرنا ہے قضاء و قدر کی آزمائش میں سے بھی اور لوگوں کی ایذا رسانیوں میں سے بھی۔بہت سے لوگ اس وقت ہدایت کو سمجھ چکے ہیں لیکن وہ صرف اس ڈر سے ایمان نہیں لاتے کہ لوگ ہمیں دکھ دیں گے اللہ تعالیٰ ان سے کہتا ہے کہ سوچ لو کہ لوگوں کے عذاب میں پڑنا چاہتے ہو یا کہ میرے عذاب میں۔خدا تعالیٰ ان کو سمجھ دے تا وہ سمجھیں کہ انسان کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے کیونکہ اس کا عذاب اتنا شدید ہوگا کہ انسان ایک لمحہ کے لئے بھی اس کی تاب نہیں لا سکتا۔خلاصہ یہ کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے ایک مامور اور مسیح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرزند جلیل کو قبول کیا ہے آپ کی سچائی پر ایمان لائے ہیں۔ہمیں اپنی زندگی کا ہر لحظہ اور ہر دم اس تیاری میں گزارنا چاہیے کہ اول ہم نے خدا تعالیٰ کے احکام کو بجالانا ہے جن باتوں سے اس نے ہمیں روکا ان سے بچے رہنا ہے۔راتوں کو اٹھنا اور پانچ وقت مسجد میں پہنچنا وغیرہ وغیرہ سینکڑوں احکام کی بجا آوری میں مجاہدات کرنے ہیں۔ان مجاہدات کو خود انسان اپنے پر ڈالتا ہے اور جب وہ اس آزمائش کو خوشی سے، بشاشت سے اور رضا کارانہ طور پر اپنے اوپر گو یا نازل کر لیتا ہے تب اس کو ثواب ملتا ہے اگر کسی شخص کو کان پکڑ کر مسجد میں لایا جائے اور وہ لانے والے کو گالیاں دے رہا ہو تو اس کو مسجد میں آنے کا کیا ثواب ملے گا۔دوسرے دو امتحان اور آزمائشیں انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔ایک تو خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور ایک قسم کا امتحان اللہ تعالیٰ کے اذن سے مخالفوں کی طرف سے آتا ہے تو ان تینوں ابتلاؤں میں پورا اترنا ہر احمدی کا فرض ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو ہر قسم کی قربانیوں