خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 212
خطبات ناصر جلد اول ۲۱۲ خطبه جمعه ۱/۸ پریل ۱۹۶۶ء پڑھانے کا با قاعدہ ایک نظام کے ماتحت انتظام کریں اور ہر دو ماہ کے بعد مجھے اس کی رپورٹ بھجوایا کریں۔(۵) پھر اس کے علاوہ ایک منصوبہ تربیتی اور اصلاحی دو ورقوں کا کثرت کے ساتھ شائع کرنے کا ہے۔اس کی تفاصیل میں میں اس وقت جانا نہیں چاہتا وہ بھی ایک اہم کام ہے۔چونکہ بہت سے کام ہیں جن کی طرف قریباً روزانہ ہی توجہ دینی پڑتی ہے اس لئے اس غرض کے لئے کہ نگرانی صحیح طور پر ہو سکے اور کام ٹھیک طرح چلتے رہیں۔میں نائب ناظر اصلاح وارشاد کی ایک اسامی قائم کرتا ہوں اور فی الحال اس پر مکرم ابوالعطاء صاحب کو مقرر کرتا ہوں وہ براہ راست میرے سامنے ذمہ دار ہوں گے۔میں چاہتا ہوں کہ بجٹ پر بار ڈالے بغیر ان کاموں کو کیا جائے الا ما شاء اللہ۔اس لئے ان کا عملہ بھی رضا کاروں پر مشتمل ہونا چاہیے اور ربوہ کی جماعت کو اس کے لئے رضا کار پیش کرنے چاہئیں۔اہل ربوہ کو غیرت دلانے کے لئے میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری بیبیوں جماعتیں ایسی ہیں کہ جہاں مستعد اور مخلص احباب جماعت کافی تعداد میں دو دو تین تین چار چار پانچ پانچ گھنٹے روزانہ دیتے ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ آپ ان سے پیچھے رہ جائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ ان کاموں کے لئے ربوہ کی جماعت رضا کار پیش کر دے گی تا وہ اس کام کو خوش اسلوبی سے سر انجام دے سکیں۔اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے محض اپنے احسان سے ہمیں اس بات کی توفیق عطا کرے کہ وہ ذمہ داریاں جو اس نے ہم پر عائد کی ہیں اور وہ کام جن کے بغیر وہ ہم سے راضی نہیں ہوسکتا ہم کما حقہ انہیں سر انجام دے سکیں کہ اس کے فضل کے بغیر ہم اس کے فضل کو بھی حاصل نہیں کر سکتے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۳ را پریل ۱۹۶۶ ۲۶ تا ۴)