خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 187
خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء قرآن مجید کی رُو سے ہماری کامیابی کی صرف یہی صورت ہے کہ ہم صبر اور تد بیر کو انتہا تک پہنچا دیں خطبه جمعه فرموده ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس غرض کے لئے مبعوث فرمایا تھا وہ یہ تھی کہ تمام دنیا میں اسلام کو غالب کیا جائے اور تمام اقوامِ عالم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے سو جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامور کر کے دنیا کی طرف مبعوث فرمایا تو آپ نے اعلان فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے بھیجا ہے کون ہے جس کے دل میں اسلام کا درد ہے؟ جس کے دل میں اسلام کا درد ہے وہ میری طرف آئے اور اس کام میں میرا ممد اور معاون ہو۔تب ہم نے ”نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ “ کا نعرہ لگاتے ہوئے آپ کی طرف دوڑنا شروع کیا اور آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور ہم نے عہد کیا کہ جس غرض اور مقصد کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے ہیں۔اس غرض اور مقصد کے حصول کے لئے آپ کے ساتھ مل کر ہم کوشش کرتے رہیں گے۔غلبہ اسلام کے لئے کوشش کرنے کا دعوی کرنا یا ایسا عہد کرنا بڑا آسان ہے اور اس سے بھی زیادہ آسانی یہ ہے کہ اس کے بعد انسان غفلت کی نیند سو جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا ہے کہ