خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 173
خطبات ناصر جلد اول ۱۷۳ خطبہ جمعہ ۱۱/ مارچ ۱۹۶۶ء معنی ہیں حسد اور تعصب کی آگ میں جلنے والا اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ سے سرکشی کرنے والا۔اپنی حدود سے آگے بڑھ جانے والا اور اس طرح پر نہ صرف خود حق سے دور ہو جانے والا بلکہ لوگوں کو حق سے دور کرنے کی کوشش کرنے والا اور یہاں اللہ تعالیٰ إِنَّ الشَّيْطَنَ يَنْزَعُ بَيْنَهُم کہہ کر انسان کو ہدایت کرتا ہے کہ اس بات کا خیال رکھنا کہ ہما را حکم ہے۔قول احسن کہا کرو اس حکم کے راستہ میں کچھ وجود روک بننے کی کوشش کریں گے اور وہ اس طرح کہ وہ حسد یا تعصب سے کام لیتے ہوئے سرکشی عدم اطاعت اور بغاوت اختیار کریں گے اور حق سے دور ہو جائیں گے، اور ساتھ ہی یہ کوشش بھی کریں گے کہ تم بھی حق سے دور ہو جاؤ۔اس طرح ہمیں بتایا کہ جو قول حسد کی وجہ سے کہا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک احسن نہیں، اسی طرح وہ بات جو تعصب کی پیداوار ہو وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں احسن نہیں۔تعصب کے نتیجہ میں کہی جانے والی باتیں دو قسم کی ہوا کرتی ہیں کیونکہ تعصب بھی دو قسم کا ہوتا ہے ایک وہ تعصب ہوتا ہے جو دوسرے کے خلاف ہوتا ہے اور اس وقت انسان تعصب کے نتیجہ میں دروغ گوئی کر رہا ہوتا ہے۔دوسرے پر جھوٹا الزام لگا رہا ہوتا ہے جو حقوق اس شخص کو حاصل ہوتے ہیں ان کا انکار ہوتا ہے۔جس مقام پر اسے رکھنا چاہیے۔وہ عمل سے بھی اور زبان سے بھی کوشش کر رہا ہوتا ہے وہ مقام اسے حاصل نہ ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان حسد پیدا کرتا ہے وہ تعصب پیدا کر کے بعض ایسی باتیں تمہارے منہ سے نکلوانے کی کوشش کرتا ہے جو میرے نزدیک احسن قول نہیں اس لئے تمہیں شیطان کے پیدا کردہ وساوس سے بچتے رہنا چاہیے۔يَنْزَعُ بَيْنَهُمُ - نَزَغَ يَنْزَعُ کے ایک معنی غیبت کرنے کے ہیں۔دوسرے معنی بد گوئی کے ہیں اور تیسرے معنی ایسی باتیں کرنے کے ہیں جن کی وجہ سے بھائی بھائی کے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے ، تفرقہ اور بگاڑ پیدا ہو جائے۔پھر اس کے معنی ایسی باتیں کرنے کے بھی ہیں جن کی وجہ سے ایک کو دوسرے کے خلاف برانگیختہ کیا جائے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَنْزَعُ بَيْنَهُم شیطان تمہیں میرے اس حکم سے کہ تم قول احسن کہا کرو، پرے ہٹانے کی کوشش کرے گا۔وہ شیطان جو