خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 2
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۲/ نومبر ۱۹۶۵ء یہ پہلی خلافت تھی جو جماعت احمدیہ میں قائم ہوئی۔یہ تھوڑا سا زمانہ جو پہلی خلافت کا تھا اس کو کسی نہ کسی طرح اس گروہ نے گزار دیا۔لیکن جب حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو ان کے نزدیک یہ وہ موقعہ تھا جب وہ اپنی رائے کو جس طرح بھی ہو جماعت میں قائم کرنے کا امکان پاتے تھے۔اس وقت اس گروہ نے یکے بعد دیگرے تین موقف اختیار کئے۔پہلے تو یہ کہا کہ جماعت احمدیہ میں خلیفہ کا وجود ہی ضروری نہیں۔خلافت ہونی ہی نہیں چاہیے۔ان کے مقابلہ میں جماعت کی اکثریت کو ایسی اکثریت جس میں یہ ا کا بر کہلانے والے یا اپنے کو ا کا بر سمجھنے والے شامل نہ تھے ) اور حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک بے قراری، ایک بے چینی لاحق تھی اور ایک موت کی سی کیفیت نظر آتی ہے کہ یا اللہ ! یہ کیا ہونے والا ہے۔تو نے مسلمانوں کو خلافت کا وعدہ دیا اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب تک قرونِ اولی میں خلافت قائم رہی مسلمان ترقی پر ترقی کرتے چلے گئے اور جب ان کی کمزوریوں اور کوتاہیوں اور غفلتوں کی وجہ سے خلافت کا انعام ان سے چھین لیا گیا تو اس کے بعد جو اسلام کی بادشاہت قائم ہوئی۔وہ اس خلافت کے مقابلہ میں کوئی چیز نہ تھی۔محض پیچ تھی۔اب پھر ہم پر اے خدا! تو نے انعام کیا تھا۔تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو منہاج نبوت پر مبعوث فرمایا جس کے متعلق تو نے خود فرمایا تھا کہ ان کے وجود میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ایک کامل مماثلت پائی جاتی ہے اور جو ایسا نہیں سمجھتا خود اس کی سمجھ کا قصور ہے۔اس وجود کے بعد سلسلہ احمدیہ میں خلافت قائم ہوئی۔لیکن ابھی چھ سال نہیں گزرے کہ ایک گروہ کھڑا ہو گیا ہے اور کہتا ہے کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں۔آپ (حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کی خوشامد میں کیں، بہتیرا سمجھایا کہ خدا کے لئے خلافت کی برکت کو مت ٹھکر او تم میں سے کوئی خلیفہ منتخب ہو جائے میں ذمہ لیتا ہوں کہ میں اور میرے دوسرے دوست اور رشتہ دار جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔وہ سب اس کی بیعت کر لیں گے اور پوری پوری اطاعت کریں گے۔اس وقت حضور کے دل میں یہ گن تھی کہ خلافت جماعت احمدیہ کے ہاتھ سے نہیں نکلنی چاہیے۔