خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 163

خطبات ناصر جلد اول ۱۶۳ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء ترک کرنے کے علاوہ انسان کو بہت سے نیک کام بھی کرنے پڑتے ہیں اور ان نیک اعمال کو بجا لانے کے بعد ہی انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی بخشش کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ اے رسول تو ان مومنوں کے اموال میں سے صدقہ لے اموال مال کی جمع ہے عام طور پر اس کے معنی روپیہ اور پیسہ کے کئے جاتے ہیں۔لیکن عربی زبان میں اس کے معنی ملکیت یعنی ہر اس چیز کے ہوتے ہیں جو کسی کے ملک میں ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اسلام کو دنیا میں اس لئے قائم کیا ہے کہ انسان اپنے مقصود کو حاصل کر لے اور اپنے محبوب اور مطلوب کے ساتھ اس کا رشتہ پختگی کے ساتھ قائم ہو جائے اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا اور حاصل کرنے والا ہو اور اس کے لئے اے رسول ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم مومنوں کے لئے ہمیشہ قربانی کے منصوبے بناتے رہا کرو۔خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صدقة صدقہ اس مال کو کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اس نیت اور اس امید کے ساتھ خرچ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرے گا اور اس کی وجہ سے قرب کی راہیں اس پر کھول دے گا۔پس فرمایا۔اے رسول تم ان مومنوں کے اموال میں سے صدقہ لو یعنی ان کی روحانی اور دنیوی ترقیات کے لئے ہمیشہ قربانی کے منصوبے بناتے رہا کرو تزکیھم تا کہ یہ بڑھیں اور ان کے اندر طاقت قوت اور کثرت پیدا ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے اس حکم کے ماتحت حسب ضرورت اور ان حالات میں جو اللہ تعالیٰ انسان اور اسلام کی ترقی کے لئے پیدا کرتا تھا مسلمانوں کے لئے قربانی کی ایک سکیم اور منصوبہ تیار کرتے تھے اور انہیں بتایا کرتے تھے کہ اگر ہم اس کام کو مل کر کریں گے تو اسلام کو قوت اور طاقت حاصل ہو گی اور ہمیں اس کے نتیجہ میں روحانی مدارج ملیں گے۔پس جنگوں کے حالات جو پیدا ہوئے یا اس کے علاوہ جو دوسرے حالات خدا تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے لئے پیدا کئے ہر بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانیوں کا ایک منصوبہ بنایا اور مسلمانوں کو کہا۔اس وقت اللہ تعالیٰ کو تمہارے اموال کی ضرورت ہے یا اس وقت اللہ تعالیٰ کو تمہارے اوقات کی ضرورت ہے یا اس وقت اللہ تعالیٰ کو تمہاری جانوں کی ضرورت ہے آؤ آگے بڑھو اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال، اپنے اوقات اور اپنی جانیں