خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1
خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۱۲ ؍نومبر ۱۹۶۵ء خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جماعت کو ہر طرح متحد اور متفق رکھا اور اسے پھر ایک ہاتھ پر جمع کر دیا خطبه جمعه فرموده ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔میرا ارادہ تو ایک اور مضمون کے متعلق کچھ کہنے کا تھا لیکن گزشتہ رات میں ”الفضل“ کا ایک پرانا فائل ۱۹۱۴ء کا دیکھ رہا تھا تو میری توجہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک تقریر کے اقتباس کی طرف مبذول کی جس میں میں نے ایک زبر دست پیشگوئی کو دیکھا جوان گذشتہ چند دنوں میں پوری ہوئی۔تب میں نے ارادہ کیا کہ اس مضمون کو چھوڑ کر میں اس پیشگوئی کے متعلق اپنے دوستوں کے سامنے کچھ بیان کروں۔لیکن اس پیشگوئی کو سمجھنے کے لئے اس پس منظر کو جس میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی سمجھنا ضروری ہے۔اس لئے مختصر طور پر میں ۱۹۱۴ء کے کچھ حالات بیان کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد بعض احمدیوں کی مرضی یا پسندیدگی کے خلاف جماعت احمدیہ ایک ہاتھ پر متفق اور متحد ہوگئی اور مجبوراً ان لوگوں کو بھی جن کی طرف میرا اشارہ ہے اور آپ بھی سمجھتے ہیں کہ احباب جماعت کی اکثریت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا اور انہوں نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔